.

یمن کے جنوبی علاقوں سے شہریوں کی بے دخلی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے جنوبی شہروں عدن اور تعز سے شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں شہریوں کو بے دخل کرنے کی مذمت کی ہے۔

یمنی فوج کی اتحادی جنوبی فورسز نے ان شہریوں کو عدن اور تعز سے محض اس بنا پر بے دخل کردیا ہے کہ وہ ملک کے شمالی علاقوں کے رہنے والے ہیں جہاں اس وقت ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کا قبضہ ہے۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''تعز اور دوسرے شہروں سے شہریوں کو بے دخل کرنے کا انفرادی اقدام بالکل ناقابل قبول ہے''۔ان کے اس بیان سے قبل یمنی حکام نے بتایا ہے کہ مسلح گروپوں نے دکانوں ،ریستورانوں اور گھروں پر چھاپا مار کارروائیوں کے دوران شمالی یمن سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور کہا ہے کہ ''وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں''۔

حکام نے اس شُبے کا اظہار کیا ہے کہ لوگوں کو بے دخل کرنے کی کارروائی کے پیچھے علاحدگی پسند کارفرما ہیں جو جنوبی یمن کو ایک مرتبہ پھر شمالی یمن سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔

یمنی وزیراعظم احمد بن ضاقر نے مٹھی بھر لوگوں کی کارروائی کو شہریوں کے ایک گروپ کے خلاف سخت اجتماعی سزا کے مترادف قرار دیا ہے۔انھوں نے عدن کی سکیورٹی بہتر بنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور اپیل کی ہے کہ لوگوں کو اجتماعی سزا نہ دی جائے۔

وزیراعظم نے عدن کے گورنر اور ان کے سکیورٹی چیف کو ہدایت کی ہے انھیں زیر کمان کام کرنے والے تمام فورسز کے اقدامات کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

انھوں نے بے دخل کیے گئے خاندانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی معمول کی زندگی گزارنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کی جانب لوٹ آئیں۔

انھوں نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب کویت میں جاری یمن امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اتوار کو حوثی ملیشیا کے نمائندے بات چیت میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کے بعد اقوام متحدہ کے ایلچی نے مذاکرات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے قبل ازیں تعطل دور کرنے کی غرض سے کویت میں یمن کے متحارب فریقوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی تھی۔اس سے ایک روز پہلے یمنی حکومت کے وفد نے براہ راست مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔