یو اے ای : داعش کے خودساختہ امیر کو عمرقید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں ایک اعلیٰ عدالت نے داعش کے مقامی خودساختہ امیر کو دہشت گردی کے حملوں کی سازش کے جرم میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔اس شخص کی بیوی کو ایک امریکی اسکول ٹیچر کے قتل کے جرم میں گذشتہ سال موت کی سزا دی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے اس اماراتی پر دسمبر 2015ء میں سیاحوں کی بسوں اور ایک امریکی فوجی اڈے پر حملوں کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی تھی۔

اماراتی میڈیا نے اس کے نام کے ابتدائی حروف ایم اے ایچ سے اس کی شناخت کی ہے۔گرفتاری کے وقت اس کی عمر چونتیس برس تھی۔اس پر داعش میں شمولیت اور القاعدہ کے ایک رکن کو رقوم دینے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

اماراتی روزنامے ''دا نیشنل'' کی رپورٹ کے مطابق مجرم نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو گذشتہ چھے ماہ سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور خاندان سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے اس مقامی خود ساختہ امیر کے خلاف وفاقی عدالتِ عظمیٰ کے تحت اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں دارالحکومت ابوظبی میں فارمولا 1 سرکٹ سمیت مختلف اہداف پر حملوں کی سازش کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

اس اماراتی شخص اور اس کی بیوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کی تھی۔ اس کی اہلیہ علاء بدرالہاشمی نے امریکی اسکول ٹیچر آئیبولیا ریان کو دسمبر 2014ء میں ابوظبی شاپنگ مال کے ایک واش روم میں گھس کر چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔قاتلہ کو عدالت نے قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور اس کو گذشتہ سال جولائی میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت سے ہم کنار کر دیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے ستمبر 2014ء سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔یو اے ای نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ دو ایک سال کے دوران اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں