.

آسٹریلیا: پانچ ''ریڈیکلز'' کشتی کے ذریعے فرار ہوتے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں پانچ مشتبہ افراد کو سات میٹر کی ایک کشتی پر بیٹھ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔

آسٹریلوی پولیس نے بتایاہے کہ ان افراد کی عمریں 21 سے 32 سال کے درمیان ہیں۔وہ جنوبی شہر میلبورن سے اپنی کار کے ساتھ کشتی باندھ کر لائے تھے اور انھوں نے اس طرح آسٹریلیا کے شمال میں واقع کیرنز تک 28 سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔انھیں منگل کے روز گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان پانچوں افراد کے پاسپورٹس پہلے ہی منسوخ کردیے گئے تھے تا کہ وہ شام میں داعش یا دوسرے انتہا پسند گروپوں میں شامل ہوکر لڑنے کے لیے ملک سے باہر نہ جا سکیں۔

آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے ڈپٹی کمشنر نیل غوغن نے بتایا ہے کہ ان افراد کو ایک وفاقی قانون توڑنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔اس قانون کے تحت کسی غیرملکی سرزمین میں دراندازی پر پابندی عاید ہے اور اگر کوئی آسٹریلوی شہری کسی دوسرے ملک میں مخالفانہ سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے تو اس کو عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

وکٹوریا پولیس کے ڈپٹی کمشنرشین پاٹن کے بہ قول یہ افراد کشتی کے ذریعے انڈونیشیا اور پھر وہاں سے فلپائن جانا چاہتے تھے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ فلپائن سے کیسے شام روانہ ہونے والے تھے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان پانچوں افراد نے ملک سے فرار کی سنجیدہ کوشش کی تھی،ان کے آسٹریلیا سے باہر جانے کی کوشش میں پاسپورٹ منسوخ ہوچکے تھے۔اب ہم ان کے آسٹریلیا سے شام جا کر لڑنے کی تحقیقات کریں گے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم آسٹریلویوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ملک سے باہر جائیں اور دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی حمایت کریں''۔

پولیس ان مشتبہ افراد کے بارے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے تحقیقات کررہی تھی۔تاہم اس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ افراد میلبورن سے کب روانہ ہوئے تھے اور وہ آسٹریلیا سے کب بیرون ملک روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔ان کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ انتہا پسندانہ نظریات کے حامل ہیں۔ تاہم پولیس نے ان کی شناخت نہیں بتائی ہے۔

آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل جارج برانڈیس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان افراد کو کیرنز سے شمال میں واقع ریاست کوینزلینڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔آسٹریلیا سے کشتی کے ذریعے ممکنہ غیرملکی جنگجوؤں کے روانہ ہونے کی یہ پہلی کوشش تھی۔آسٹریلیا کے سکیورٹی حکام کے تخمینے کے مطابق اس وقت ایک سو دس آسٹریلوی مشرق وسطیٰ میں داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔