.

ترکی نے شام ،عراق میں 3000 داعشی جنگجو ہلاک کر دیے

کوئی اور ملک ترکی کی طرح داعش کے خلاف نہیں لڑرہا ہے: صدر ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کی مسلح افواج نے شام اور عراق میں فضائی حملوں میں داعش کے تین ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح ان کا ملک داعش کے خلاف لڑ رہا ہے کوئی اور ملک اس طرح اس گروپ کے خلاف نبرد آزما نہیں ہے۔انھوں نے دو روز قبل ہی کہا تھا کہ مغرب نے ترکی کو داعش کے خلاف جنگ میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔یہ جنگ جیتنے کے لیے مغرب ترکی کی مدد کرے۔

واضح رہے کہ ترکی پہلے شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں متردد رہا ہے اور اس پر مغربی ملکوں کی جانب سے داعش کے جنگجوؤں اور شامی باغیوں کے بارے میں اپنے سرحدی علاقوں میں نرم روی اختیار کرنے کے الزامات بھی عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

ترکی نے جولائی 2015ء میں اپنے سرحدی قصبے سوروچ میں ایک خود کش بم دھماکے کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے اور امریکا کو داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ داعش نے قبل ازیں ایک ویڈیو جاری کی تھی۔اس میں انھوں نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر باغی ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور ترکوں پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

ترکی میں جنوری کے بعد سے چار خودکش بم حملوں میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔استنبول میں 19 مارچ کو ایک خودکش حملے میں تین اسرائیلی اور ایک ایرانی ہلاک ہوگیا تھا۔داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

ترکی اور شام کے درمیان نو سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ترک پولیس شام میں قریباً پانچ سال قبل خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے اس سرحد کو بمشکل کنٹرول کرسکی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی ماضی میں انتہا پسند جنگجوؤں کے جوابی حملوں کے خوف سے سرحد پر سختی برتنے میں متردد رہا ہے۔

ترکی نے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے اپنی سرحدیں کھول رکھی ہیں اور اس وقت وہ قریباً بیس لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ترکی نے ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر بھی کوئی زیادہ سختی نہیں کی تھی جس کے سبب شامی مہاجرین اور امدادی کارکنان کے روپ میں غیرملکی جنگجو بھی سرحد کے آر پار آتے جاتے رہے ہیں۔