.

"الله اكبر" کا نعرہ استعمال کرنے پر برطانوی پولیس کی معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پولیس نے مانچسٹر میں ایک تجارتی مرکز کے اندر دہشت گرد حملے سے نمٹنے کی مشق کے دوران " الله اكبر" کا نعرہ استعمال کرنے پر معذرت کر لی ہے۔ پولیس حکام نے واضح طور پر اسلام اور دہشت گردی کے درمیان ربط پیدا کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والی تربیتی وڈیو میں چہرے پر ماسک پہنے کالے کپڑوں میں ملبوس شخص کو چار مرتبہ " الله اكبر" کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک تجارتی مرکز پر دھاوا بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد ایک چھوٹا سے دھماکا ہوتا ہے اور وہ شخص زمین پر گر جاتا ہے۔

مانچسٹر پولیس کے کمشنر گیری شیون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "سوچ بچار کے بعد ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ ایک خودکش حملے سے متعلق تربیت سے قبل مذہبی وابستگی کے ایک ایسے جملے کا استعمال کسی طور مناسب نہ تھا جو اس مشق کو واضح طور پر اسلام سے جوڑ دے"۔

شیون نے واضح کیا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب 6 گھنٹوں تک جاری رہنے والی مشق "داعش کے انداز پر ایک تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے خودکش حملے کی نقل تھی، تاہم پولیس نے اہانت کا اقرار کر لیا اور اس پر اپنی معذرت پیش کر رہی ہے"۔

برطانوی پولیس کی جانب سے یہ معذرت مشق کے نشر ہونے پر متعدد حلقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔ پولیس کی مشق میں 800 افراد نے شرکت کی تھی۔

مانچسٹر کے میئر ٹونی لائڈ کے مطابق "الله اكبر" کے نعرے کا موقع محل کے برخلاف استعمال کا کوئی جواز نہیں اور یہ اس سلسلے میں ناقابل قبول ہے۔

لوئڈ نے مزید کہا کہ اس نعرے سے "مشق کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا البتہ اس کے برعکس مانچسٹر میں سوسائٹی کی مختلف کمیونٹیز کے درمیان شاندار تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے"۔

برطانوی پولیس نے باور کرایا کہ ملک کے شمال میں واقع اس بڑے شہر کو کسی مقررہ خطرے کا سامنا نہیں ہے اور اس مشق کا فیصلہ داعش تنظیم کی جانب سے نومبر میں پیرس میں کیے جانے والے حملوں کے بعد کیا گیا تھا جن میں 130 افراد ہلاک کر دیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اگست 2014 سے برطانیہ میں انتباہ کی سطح "خطرناک" قرار دی گئی ہے جو انتباہ کے پیمانے کے 5 درجوں میں چوتھی سطح ہے۔