ایران کا سعودی حج پروٹوکول پر دستخط سے انکار

تہران کے فیصلے کے باعث ایرانی شہری امسال حج نہیں کر سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امسال ایران اپنے شہریوں کو فریضہ حج ادائیگی کے لئے سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایرانی وزیر ثقافت اور ارشاد اسلامی علی جنتی نے الزام لگایا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کے ساتھ کئی مہینوں سے جاری 'حل طلب سیکیورٹی امور' کو منطقی انجام تک نہ پہنچانے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

اے پی کی جانب علی جنتی کے نقل کردہ بیان کے مطابق "انہوں [سعودی عرب] نے ایرانی عازمین حجاج کو ویزوں کے اجراء، سیکیورٹی اور ان کی نقل و حمل سے متعلق ہماری تجاویز نہیں مانیں۔" امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی سرکاری خبر رساں ادارے نے کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا، تاہم خبر میں اس امر کی وضاحت نہیں ملتی کہ آیا تہران نے خود سعودی جواب جاننے کی کوشش کی؟

یاد رہے کہ دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان گزشتہ برس کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا تھا جب حج کے موسم میں بھگڈر کا ایک واقعہ ہوا جس میں ایران کے متعدد حاجی بھی جاں بحق ہونے والے سیکڑوں حجاج میں شامل تھے۔

سعودی حکام نے اپنے تیئں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس حادثے کو سیاسی رنگ دینے سے باز رہیں، تاہم تہران کے مسلسل اصرار کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہو گئے کیونکہ ایران سعودی شہری کو دی جانے والی سزائے موت پر ہونے والے احتجاج میں ریاض کے سفارتخانے کو بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

ایرانی فیصلے نے متعدد سوالات جنم دیئے ہیں کیونکہ حج دین اسلام کے پانچ ارکان میں شامل اہم رکن اور مذہبی فریضہ ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔

سعودی عرب نے اس صورتحال میں کسی بھی مرحلے پر یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ اس سال ایرانی حاجیوں کو خوش آمدید نہیں کہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں