عنقریب "موبائل" فون پاسپورٹ کا متبادل ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں ان دنوں پاسپورٹ کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا متبادل ایجاد کیے جانے پر کام ہو رہا ہے۔ برطانوی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں پاسپورٹ تیار کرنے والی کمپنی "ڈی لارو" موبائل فون میں ساتھ لے کر چلنے کے لیے الکٹرونک پاسپورٹ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے جو موجودہ روایتی پاسپورٹ کا متبادل ثابت ہوسکے۔ اس منصوبے پر عمل درامد کی صورت میں برطانیہ دنیا کا پہلا ملک ہوگا جو اپنے شہریوں کے پاسپورٹوں کو سفری نوٹ بک سے موبائل فون کی ایپلی کیشن میں تبدیل کردے گا۔

منصوبے کے ناظمین کے مطابق بہت سے مسافر ایئرپورٹ کے راستے میں یا گھر سے نکلتے وقت پاسپورٹ رکھنا بھول جاتے ہیں اور بہت سوں کو پاسپورٹ لینے کے لیے واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ اس دوران بعض مسافروں کی فضائی پرواز چھوٹ جاتی ہے اور ان کا خریدا ہوا ٹکٹ ضایع ہوجاتا ہے۔ مسافروں کو ان تمام پریشانیوں اور مشقت سے بچانے کے لیے برطانوی کمپنی پاسپورٹ کو موبائل فون میں منتقل کرنے کی خواہش مند ہے جو صاحب پاسپورٹ کے پاس ہر وقت رہے گا۔

"ڈی لارو" کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارٹن سودر کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے جدید خصوصی ٹکنالوجی پر کام شروع کر دیا ہے جس کے ذریعے پاسپورٹ کا تمام تر ڈیٹا حفاظت کے ساتھ فعال طریقے سے اسمارٹ فون میں محفوظ کیا جاسکے گا۔

برطانوی اخبار "ڈیلی ٹیلی گراف" کا اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں کہنا تھا کہ الکٹرونک پاسپورٹ کا خواب حقیقت کا روپ دھار گیا تو اس کو رکھنے والا شخص امیگریشن گیٹس اور سرحدوں سے چند لمحوں میں گزر سکے گا۔ اس سلسلے میں "بار کوڈ" کا اصل کردار ہو گا اور کسی بھی اہل کار کے پاس جانے یا اس سے بات چیت کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں اکثر فضائی کمپنیاں اپنے مسافروں کو الکٹرونک ٹکٹ کے علاوہ الکٹرونک بورڈنگ پاس بھی جاری کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاسپورٹ کے الکٹرونک صورت اختیار کر جانے کے بعد مسافر کو ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے ہوئے کسی قسم کا سفری دستاویز یا کاغذ ساتھ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں