فرانس کے مشرق وسطیٰ امن اقدام پر امریکا کی سرد مہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے فرانس کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل دوبارہ شروع کرنے سے متعلق مجوزہ منصوبے کے بارے میں سرد مہری اختیار کر لی ہے اور وہ شاید اسی ماہ پیرس میں ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس میں شرکت بھی نہ کرے۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے بدھ تک اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا وزیر خارجہ جان کیری 30 مئی کو پیرس میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا فرانس کے ایک ایسے ایشو پر قائدانہ کردار کے حق میں نہیں ہے جس کی وہ روایتی طور پر خود قیادت کرتا رہا ہے۔

امریکا کی ایک خاتون ترجمان الزبتھ ٹروڈو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں برسرزمین جاری تشدد پر تشویش لاحق ہے اور ہم وہاں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔تاہم 30 مئی کو ہونے والی اس خاص کانفرنس میں شرکت کے حوالےسے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''ہم فرانس اور دوسرے بین الاقوامی شراکت داروں سے بدستور مشاورت کررہے ہیں''۔امریکی وزیر خارجہ نے سوموار کو پیرس میں فرانسیسی ہم منصب ژاں مارک آریو سے ملاقات کی تھی۔ان کے نائب انتونی بلینکن بدھ کو پھر وہیں تھے۔

فرانسیسی وزیراعظم مینول والس اسی ماہ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے والے ہیں۔ان کے اس دورے کا مقصد فرانسیسی امن اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور فریقین کو کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کرنا ہے۔

اسرائیل اس منصوبے کی مخالفت کرچکا ہے۔اس کا اصرار ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی امن قائم کیا جاسکتا ہے۔پیرس میں مجوزہ مشرق وسطیٰ امن کانفرنس میں بیس ممالک سے تعلق رکھنے والے وزراء کی شرکت متوقع ہے۔

واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب پالیسی کے فیلو اور فلسطینی امن مذاکرات کاروں کے سابق مشیر غیث العمری کا کہنا ہے کہ ''وہ (امریکی) دو محاذوں کی بنا پر فرانسیسی اقدام کی حمایت سے گریزاں ہیں۔ایک یہ کہ امریکی ہمیشہ ایسے کسی امن عمل کا حصہ بننے سے گریزاں رہے ہیں جس کی قیادت ان کے ہاتھ میں نہ ہو۔دوسرا یہ کہ انتظامیہ نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا امریکی آیندہ چند مہینوں کے دوران کچھ کریں گے یا نہیں''۔

واشنگٹن میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ صدر براک اوباما ایک اہم تقریر کی تیاری کررہے ہیں اور وہ اس میں امن کے لیے شرائط کا خاکہ بیان کریں گے۔ نیز امریکا بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے مجوزہ خاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کرسکتا ہے۔

تاہم غیث العمری کا کہنا تھا کہ ''جب تک کوئی فیصلہ نہیں کر لیا جاتا،اس وقت اس بات کا امکان نہیں کہ امریکا کسی بیرونی اقدام کا حصہ بنے گا۔اگر صدر اوباما کوئی تقریر کرنے والے ہیں تو مجھے تو ایسے نہیں لگتا کہ جان کیری فرانسیسی کانفرنس میں شرکت کریں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں