انٹرنیٹ پر انتہاپسندی کا پھیلاؤ روکنا آسان نہیں : ٹکنالوجی کمپنیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں "مائیكروسافٹ" کمپنی کے نائب صدر اسٹیفن کراؤن نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے واسطے کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ "داعش" اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جاری جنگ آہستہ آہستہ اپنے انجام کی جانب بڑھ رہی ہے، زمینی حقائق کی روشنی میں جیسا کہ متعدد ذمہ داران نے اقرار کیا ہے "داعش" تنظیم دھیرے دھیرے پیچھے ہٹ رہی تاہم وہ اپنی بھرتیوں کے جاری رکھنے اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت کی حامل ہونے کے سبب اب بھی حالیہ صورت میں بڑا خطرہ ہے۔

اپنے افکار پھیلانے اور بھرتیوں کے لیے سب سے طاقت ور ذریعہ یعنی انٹرنیٹ بالخصوص سماجی ویب سائٹوں کا پلیٹ فارم استعمال میں لا کر، داعش تنظیم اب بھی سرگرم ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران "مائيكروسافٹ" کمپنی کے نمائندے نے زور دیا کہ ٹکنالوجی کمپنیوں اور ریاستوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کو اپنے نظریات پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کرنے سے روکا جاسکے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے ایک ٹکنالوجی کمپنی کی جانب سے انٹرنیٹ پر انسداد دہشت گردی سے متعلق بریفنگ کو سنا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کیلی فورنیا میں ایک ٹکنالوجی کمپنی انٹیل کے سیکورٹی ونگ میں گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے انتہاپسند تنظیموں کے خلاف جنگ میں استعمال کی جانے والی ٹکنالوجی متاثر کن ہے۔ دیگر ممالک بھی ہیں جن کے پاس یہ ہی ٹکنالوجی ہے اور وہ اسے انتہاپسندوں کے خلاف جنگ اور ان کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

ادھر امریکی اخبار "واشنگٹن ٹائمز" کی رپورٹ کے مطابق "داعش" تنظیم نے اسمارٹ فون کی ایک نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے جن کے ذریعے بھرتی کرنے والے ذمہ داران بچوں کو عربی کی ابجد سکھاتے ہیں۔ یہ تنظیم کی پہلی ایپلی کیشن ہے جس کے ذریعے وہ بچوں کو شکار کر رہی ہے۔ داعش کی جانب سے گزشتہ برس متعدد ایپلی کیشنز تیار کی گئی تھیں جن میں تنظیم سے متعلق خبروں کی ایک خاص ایپلی کیشن بھی شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں