امریکا لیبیا کو اسلحے کی برآمد پرعاید پابندی میں نرمی کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی حکومت لیبیا کو اسلحہ برآمد کرنے پر عاید اقوام متحدہ کی پابندی میں نرمی کے لیے تیار ہے تاکہ خانہ جنگی کا شکار اس ملک کی قومی اتحاد کی حکومت کو داعش کے خلاف جنگ میں مدد مہیا کی جاسکے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ ''اگر لیبی حکومت داعش کے خلاف جنگ کے لیے درکار اشیاء کی ایک جامع فہرست تیار کرے اور استنثیٰ کے تمام تقاضوں کو پورا کرے تو میرے خیال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان اس درخواست کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''لیبیا کے اندر داعش سے نجات پانے کے لیے شدید خواہش پائی جاتی ہے۔میرے خیال میں یہ ایک ایسی چیز ہے کہ ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کی درخواست پر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے''۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ سال مارچ میں لیبیا میں انتہا پسندوں کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کے لیے اتفاق رائے سے ایک قرارداد کی منظوری دی تھی لیکن اس نے لیبی حکومت پر عاید اسلحے کی خرید پر پابندی ختم نہیں کی تھی۔

لیبیا نے مصر کی حمایت سے اسلحے کی درآمد پر عاید پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حکومت داعش ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی فوج کی تشکیل نو کرسکے۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضہ کررکھا ہے اور ان کی لیبی حکومت کے تحت فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

امریکا نے ایک روز قبل ہی جمعرات کو تیونس کو جیپیں ،مواصلاتی ٹیکنالوجی اور چھوٹے طیارے دیے ہیں،تاکہ وہ لیبیا کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنا سکے۔تیونس کے وزیر دفاع فرحت ہورشنی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو متعدد لڑاکا طیارے ملنے کی توقع ہے۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ طیارے کون مہیا کرے گا۔

تیونس نے لیبیا کے ساتھ واقع دو سو کلو میٹر طویل سرحد پر رکاوٹیں لگادی ہیں تاکہ داعش کے جنگجوؤں کے زمینی داخلے کو روکا جاسکے۔لیبیا میں تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ کے بعد جنگجو تیونس میں داخل ہوکر غیرملکی سیاحوں پر حملے کرچکے ہیں۔انھوں نے گذشتہ سال دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو میوزیم اور ایک ساحلی سیاحتی مقام پر حملہ کرکے ساٹھ سے زیادہ غیرملکی سیاحوں کو ہلاک کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں