.

بدرالدین کے جائے مقتل پر کوئی امریکی پرواز نہ تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’داعش‘ کے خلاف برسر جنگ اتحادی ممالک کے کسی جنگی طیارے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے شام میں ہلاک ہونے والے جنگجو مصطفیٰ بدرالدین کی قتل کی جگہ سے پرواز کی سختی سے تردید کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اپنے ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شام میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کے جائے وقوعہ سے اتحادی طیاروں نے بھی پرواز کی تھی۔

مسٹر ارنسٹ کا کہنا تھا کہ امریکا یا کسی دوسرے اتحادی ملک کے طیارے نے اس جگہ سے پرواز نہیں کی جہاں مبینہ طور پر حزب اللہ کمانڈر کو قتل کیا گیا۔

وائیٹ ہاؤس کا مزید کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈر مصطفیٰ بدرالدین کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دو روز قبل شام کے دارالحکومت دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب حزب اللہ کمانڈر بدرالدین کے قتل کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

امریکا کی جانب سے حزب اللہ کمانڈر کی جائے قتل سے پرواز کی تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقتول کمانڈر کو بیروت کے قریب سپرد خاک کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ آیا حزب اللہ کے سرکردہ کمانڈر کو کس نے ہلاک کیا ہے۔

حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جلد ہی مصطفیٰ بدرالدین کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کی تفصیلات اور قتل کے اسباب کی وضاحت کریں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2008ء میں مبینہ طورپر اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہونے والے عماد مغنینہ کمانڈر کے بعد مصطفیٰ بدرالدین کا شمار اہم ترین حزب اللہ کمانڈروں میں ہوتا ہے.