.

حزب اللہ ارجنٹائن کے سابق صدر کے بیٹے کی قاتل ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارجنٹائن کے سابق صدر کارلوس مینیم نے ایک عدالت کے روبرو بیان میں کہا ہے کہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوّث ہے۔حزب اللہ پر 1990ء کی دہائی میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں دو بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا الزام ہے۔

کارلوس مینیم نے اپنے بیٹے کی موت کی تحقیقات کرنے والے جج کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس وقت کے وزیر خارجہ گائیڈو ڈی ٹیلا نے بتایا تھا اور انھیں غیرملکی سفارت خانوں کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ حزب اللہ ان کے بیٹے کے قتل کے واقعے میں ملوّث تھی۔

تاہم سابق صدر نے اپنے اس دعوے کے حق میں مزید کوئی تفصیل یا ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔وہ 1989ء سے 1999ء تک ارجنٹائن کے صدر رہے تھے۔اس وقت وہ ملکی سینیٹ کے رکن ہیں۔

ان کے بیٹے کارلوس فاکنڈو مینیم 15 مارچ 1995ء کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔وہ اس ہیلی کاپٹر کو اڑا رہے تھے۔صدر مینیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ایک طویل عرصے تک یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے چھبیس سالہ بیٹے کو قتل کیا گیا تھا لیکن ماضی میں انھوں نے واضح طور پر یہ نہیں کیا تھا کہ قتل کے اس واقعے میں کون ملوّث ہے۔

ارجنٹائن کے پراسیکیوٹرز کو یقین ہے کہ حزب اللہ اور ایران 1992ء میں بیونس آئرس میں اسرائیلی سفارت خانے میں بم دھماکے اور 1994ء میں یہودی کمیونٹی مرکز میں دھماکے میں ملوّث تھے۔اس واقعے میں 85 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ارجنٹائن میں دہشت گردی کا یہ بدترین واقعہ تھا۔

ان دونوں بم دھماکوں کے وقت کارلوس مینیم ہی ملک کے صدر تھے۔ارجنٹینا کے بہت سے شہریوں کا خیال تھا کہ یہ بم دھماکے صدر کے امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور ایران کی جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے حمایت سے دستبرداری کا ردعمل تھے۔

کارلوس فاکنڈو مینیم 15 مارچ 1995ء کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
کارلوس فاکنڈو مینیم 15 مارچ 1995ء کو ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔