.

سعودی عرب : تارکِ وطن خواتین کو بیوٹی سیلونوں میں کام کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں مقیم تارکین وطن کے زیر کفالت خواتین یا اہل خانہ کو عورتوں کے بیوٹی سیلونوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اس فیصلے کا انکشاف سعودی وزیر محنت اور سماجی ترقی مفرج الحقبانی نے کیا ہے۔انھوں نے ایوان صنعت وتجارت مدینہ کے زیر اہتمام کاروباری شخصیات کے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ اس فیصلے سے اس شعبے میں ویزوں کی مانگ میں کمی آئے گی۔

انھوں نے کہا کہ بیوٹی سیلون مارکیٹ بہت بڑی ہے اور اس میں سعودی خواتین بھی کام کرسکتی ہیں۔سعودی وزارت محنت نے سنہ 2014ء میں غیرملکی تارکین وطن کے ساتھ مقیم خواتین کو پرائیویٹ شعبے میں کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا اور انھیں اس سلسلے میں اپنے اقامے بھی منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

قبل ازیں اس انتظام کے تحت نجی اور بین الاقوامی اسکولوں میں غیرملکی خواتین کو صرف تدریسی خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی تھی۔تاہم اگر کوئی کمپنی یا اسٹیبلشمنٹ تارکین وطن کے زیر کفالت خواتین کو اپنے ہاں ملازمت دینا چاہتی ہے تو ان کا شمار سبز نتاقط زون میں ہونا چاہیے۔وہ بھرتی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور انھیں ان خواتین کے کفیل تارکین وطن کی رضا مند حاصل ہونی چاہیے۔

ملازمت کی خواہاں تارکین وطن کے زیرکفالت ان خواتین کے پاس اقامہ ہونا چاہیے ،ان کی عمر ساٹھ سال سے کم ہونی چاہیے،ان کا کسی اور ادارے کے ساتھ ملازمت یا کام کا کوئی معاہدہ نہیں ہونا چاہیے اور اگر اس خاص اسامی کے لیے کوئی سعودی خاتون امیدوار نہیں تو وہ اس پر ملازمت کے لیے درخواست دینے کی اہل ہونی چاہییں۔