.

’داعشی کشتی‘ فرانسیسی ہوٹل میں کھلبلی کی وجہ کیسے بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور بیلجیم میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ایسے محسوس ہوتا ہے کہ مغربی دنیا شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے سائے سے بھی خوف زدہ ہے اور اس خوف کے مظاہر آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایسا ہی ایک واقعہ فرانس کے ساحلی شہر اور ہالی وڈ فلمی میلے کی 70 سال سے میزبانی کرنے والے ’’کان‘‘[کانس] میں پیش آیا جب ساحل سمندر پر بنے ہوٹل میں مقیم افراد اپنی طرف بڑھنے والی ایک کشتی کو دیکھ کرخوف سے کانپنے لگے۔

ہوٹل کے مکینوں کو خوف اس لیے لاحق ہوا کیونکہ ان کی طرف بڑھنے والی ایک چھوٹی کشتی پر سوار افراد داعشی جنگجوؤں کا روپ دھارے ہوئے تھے اوران کی کشتی پر سیاہ پرچم لہرا رہا تھا۔

اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کی کشتی پر سوار افراد داعشی جنگجو یا دہشت گرد نہیں بلکہ فرانس میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تشہیری مہم کے کارکن تھے۔

انٹرنیٹ کمپنیوں کی تشہیری مہم کے چھ کارکن ایک چھوٹی کشتی پر سوار تھے اور وہ کشتی کان شہر سے نصف گھنٹے کی مسافت پر واقع دی کیپ ایڈن روک ہوٹل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دور سے دیکھے ہوئے لگ رہا تھا کہ کشتی پر داعش کے جنگجو سوار ہیں اور وہ ہوٹل پرحملے کے لیے اس طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ ساحلی شہر کان عرصہ دراز سے ہالی وڈ فلموں کے سالانہ میلے کا میزبان چلا آ رہا ہے۔ سنہ1978ء میں فرانسیسی پولیس نے یہاں پر ایک بم دھماکے کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

فرانس میں گذشتہ برس نومبر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ فرانس کی تاریخ میں دہشت گردی کا یہ بدترین واقعہ ہے۔ شدت پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ فرانس میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد داعش کا نام سن کر لوگ خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔