.

احتجاج کے بعد ایرانی فوجیوں کی شام روانگی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حکومت نے شام میں خانہ جنگی کے دوران بڑے پیمانے پر فوجی افسروں اور جوانوں کی ہلاکتوں اور بیرون ملک سرگرم القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف احتجاج کے بعد پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور پاسیج ملیشیا کی شام روانگی کا عمل روک دیا ہے۔

پاسیج نیوز ایجنسی نے شام سے واپس آنے والے ایک جنگجو کمانڈر اور مذہبی رہ نما کاظمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مازندان شہر سے شام اور عراق کو مزید افرادی قوت ارسال کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔

کاظمی نے ان خیالات کا اظہار اتوار کے روز ضلع مازندان میں پاسداران انقلاب کے شام کے علاے خان طومان میں مارے جانے والے 13 فوجیوں کی تدفین کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شام میں مارے جانے والے فوجیوں کی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کی تقریبات میں سرکاری نمائندے کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔

علامہ کاظمی کا کہنا تھا کہ خان طومان معرکے میں ایران کو پہنچنے والے غیرمعمولی جانی نقصان کے بعد عراق اور شام کے لیے مزید فوجی کمک بھجوانے کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے شہر حلب اور نواحی علاقے خان طومان میں گذشتہ ہفتے ہونے والی لڑائی میں ایران کے دسیوں جنگجو اور پاسدارن انقلاب کے فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ شام میں ہلاکتوں کے بعد بیرون ملک سرگرم نجی ملیشیا القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

ادھر دوسری جانب خبر رساں ایجنسی "فارس" نے شام میں مزید فوجی اہلکاروں اور جنگجوؤں کی روانگی روکنے کے بیان کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اگرچہ علامہ کاظمی نے شام میں مزید فوج بھجوانے کا عمل روکنے کی بات ہے مگر پاسداران انقلاب کے ایک دوسرے عہدیدار مرتضیٰ صفاری نے کہا ہے کہ تہران 100 فوجی افسروں اور جوانوں کو عراق اور شام روانہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ یہ فوجی دونوں ملکوں میں مشاورتی خدمات فراہم کریں گے۔