.

شام اپوزیشن کی عالمی برادری سے مسلح امداد کی درخواست

جنوبی محاذ کی طرز پرمتحدہ شمالی محاذ کی تشکیل کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کی نمائندہ سپریم مذاکراتی کونسل کے سربراہ ریاض حجاب نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن فورسز کے لیے عالمی برادری سے مسلح امداد کی درخواست دینے اور عالمی سرپرستی میں جدید فوجی سازو سامان کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں۔

ریاض حجاب کی جانب سے یہ بیان ویانا میں شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں مذاکرات کے نئے دور سے دو روز قبل سامنے آیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق ریاض حجاب کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جنوبی محاذ کی طرز پر 14 عسکری تنظیموں نے شام کے شمالی محاذ پر بھی باہم مل کر شامی فوج کے خلاف لڑنے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ شمالی محاذ کے قیام کے لیے چودہ مسلح تنظیموں کے مندوبین کا ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس میں جنوبی محاذ کی طرز پرشمالی محاذ پر بھی اعتدال پسند تنظیموں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔

خیال رہے کہ ملک کے شمالی شہر حلب اور اس کے اطراف میں جاری لڑائی بالخصوص داعش اور اعتدال پسند گروپوں کے درمیان جنگ کو موثر بنانے کے لیے شامی اپوزیشن فورسز اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ حلب میں روسی اور شامی فوج کی مسلسل حملوں اور کردوں کے زیرقبضہ بعض علاقوں کی واگزاری میں ناکامی نے شامی اپوزیشن کو کمزور ثابت کیا جس کے بعد حلب، ادلب اور اللاذقیہ میں متحدہ شمالی محاذ کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

اسی سلسلے میں گذشتہ روز 14 عسکری گروپوں کا ایک نمائندہ اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں جیش الاسلام، شامی محاذ، فوج الاول، جیش المجاھدین اور شمالی گروپ جیسی سرکردہ تنظیموں کے مندوبین نے شرکت کی۔ تاہم اجلاس میں جیش النصر، فیلق الشام، تحریک احرار شام کئی دوسرے گروپ موجود نہیں تھے۔