.

کویت مذاکرات یمن کے بحران کے حل کا آخری موقع: یو این

فریقین ماہ صیام سے قبل 50 فی صد قیدیوں کی رہائی سے متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے کہا ہے کہ یمن کے بحران کے حل کے لیے کویت کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت آخری موقع ہے۔ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو دوبارہ ایسا موقع نہیں مل سکے گا۔ انہوں نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ یمن کو بحران سے نکالنے کے لیے اپنے موقف میں نرمی پیدا کریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کویت میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے والد الشیخ کا کہنا تھا کہ آنے والے دن یمن بحران کے حل کے حوالے سے فیصلہ کن ہوسکتے ہیں۔ امن عمل جرات مندانہ فیصلوں کا متقاضی ہے۔ تمام فریقین ملک کو بحران سے نکالنے کےلیے اپنے موقف میں لچک دکھائیں۔ کچھ چیزیں امید افزاء ہیں جب کہ کچھ امور پریشان کن بھی ہیں۔ بحران کے حل کے لیے ہر ایک کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں یواین مندوب کا کہنا تھا کہ ہم حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت کے دوران دونوں کے موقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یمنی قوم کویت مذاکرات کی ناکامی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ کویت میں ہونے والی بات چیت آخری موقع ہے۔ اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے گیا تو پھر بحران مزید گھمبیر ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا تھا کہ حکومت اور باغیوں کی قائم کردہ کمیٹیوں نے ماہ رمضان سے قبل 50 فی صد قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹیوں نے قیدیوں کی رہائی کے لیے فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔ اب آخری گیند مذاکرات کاروں کی کورٹ میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس قدر دانش مندی اور امن پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔