.

ٹرمپ ''احمقانہ'' بیان پر کیمرون اور صادق خان سے حالتِ جنگ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا لندن کے نومنتخب میئر صادق خان کے بعد اب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور وجہ نزاع ان کا مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی سے متعلق موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا صدر منتخب ہونے کی صورت میں ان کے ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان آئی ٹی وی سے سوموار کی صبح ''گڈ مارننگ بریٹین'' پروگرام میں نشر ہوا ہے۔برطانیہ میں امریکا کو ایک قریبی اتحادی ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن ری پبلکن صدارتی امیدوار اس ملک کے ساتھ تعلقات بھی اپنے تند وترش بیانات سے بگاڑنے جارہے ہیں۔
دوسری جانب ڈیوڈ کیمرون نے مسلمانوں پر امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر اپنے تبصرے کو واپس لینے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے مسلمانوں پر مجوزہ پابندی کو منقسمانہ ،احمقانہ اور غلط قراردیا تھا۔

مسٹر ٹرمپ نے نیویارک میں ریکارڈ کیے گئے برطانوی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے:''اس سے لگتا ہے ہم بہت اچھے تعلقات استوار کرنے نہیں جارہے ہیں۔کون جانتا ہے۔میں ان (ڈیوڈکیمرون) سے اچھے تعلقات کی توقع رکھتا ہوں لیکن وہ اس مسئلے کو حل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ہیں''۔

انھوں نے اس انٹرویو میں لندن کے پہلے منتخب مسلمان میئر صادق خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور انھیں''غیر مہذب''قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی میں استثنیٰ دینے کی تجویز پر میئر کے مخالفانہ ردعمل کو یاد رکھیں گے''۔صادق خان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس تحویز اور مسلمان مخالف بیانات پر اسلام سے ناواقف شخص قرار دیا تھا۔

امریکی صدارتی امیدوار نے اپنے انداز تکلم کے عین مطابق صادق خان کو قریب قریب للکارتے ہوئے کہا:''وہ مجھے نہیں جانتے ،وہ مجھ سے ملے بھی نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ میں کیا چیز ہوں۔میرے خیال میں وہ بہت ہی غیرمہذب بیانات تھے۔ان صاحب کو بتادیجیے ،میں ان بیانات کو یاد رکھوں گا۔یہ بہت ہی غیر ذمے دارانہ بیانات تھے''۔

تاہم انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ صادق خان کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں اور کہا ہے کہ ''میں نے جب یہ سنا کہ وہ میئر کا انتخاب جیت گئے ہیں تو ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔میرے خیال میں یہ ان کی لاعلمی تھی کہ انھوں نے ایسے بیانات جاری کیے تھے''۔

صادق خان کے دفتر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس گل افشانی گفتار پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی ووٹر ان کے خیالات کو مسترد کردیں گے۔''صادق نے اپنی پوری زندگی انتہاپسندی کے خلاف لڑتے ہوئے گزاری ہے لیکن ٹرمپ کے بیانات نے اس جنگ کو ہم سب کے لیے مزید مشکل بنا دیا ہے۔یہ تو سیدھے سبھاؤ انتہا پسندوں کے ہاتھ میں کھیلنا ہے اور اپنے دونوں ممالک کو غیرمحفوظ بنانا ہے''۔بیان میں کہا گیا ہے۔