کویت: یمنی حکومت نے حوثیوں سے مذاکرات معطل کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمنی حکومت کے وفد نے کویت میں حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ جاری مذاکرات ایک مرتبہ پھر معطل کردیے ہیں۔

یمن کے سرکاری وفد کے سربراہ اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی شیعہ ملیشیا نے مذاکرات کو مکمل طور پر سبوتاژ کردیا ہے اور وہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بات چیت میں کیے گئے وعدوں سے پھر گئی ہے۔

انھوں نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے کہا ہے کہ وہ باغیوں کو مزید وقت ضائع کرنے سے روکیں اور انھیں طے شدہ ایشوز پر عمل درآمد کا پابند بنائیں ۔اس کے بعد ہی ہم بات چیت کو بحال کریں گے۔

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے وفد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح طرفین کا ہونے والا اجلاس منسوخ کردیا گیا ہے کیونکہ حکومتی وفد ان میں حصہ لینے کے لیے نہیں آیا ہے۔

مذاکرات میں اس تعطل سے دو روز قبل ہی اسماعیل ولد شیخ احمد نے اس خوش امیدی کا اظہار کیا تھا کہ ''ہم خانہ جنگی کا شکار ملک میں جاری تنازعے کے حل کے قریب پہنچ گئے ہیں''۔

کویت میں 21 اپریل سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ان میں اگلے روز صرف یہ اہم پیش رفت ہوئی تھی کہ انھوں نے قیدیوں اور زیرحراست افراد میں سے نصف، نصف کو رہا کرنے سے اتفاق کیا تھا اور اب اس سلسلے میں سمجھوتے کو حتمی شکل دی جارہی تھی۔

یمنی حکومت کے وفد نے گذشتہ ہفتے کے روز بھی حوثیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔اس لیے انھیں جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حوثی وفد اور ان کے اتحادی دوسرے ایشوز کے حل کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت کے قیام پر اصرار کررہے ہیں جبکہ یمنی حکومت کے وفد کا موقف ہے کہ عبد ربہ منصور ہادی ملک کے قانونی صدر ہیں اور انھیں ہٹانے کا کوئی جواز نہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت حوثی ملیشیا سے ہٹھیار ڈالنے اور دارالحکومت صنعا سمیت دوسرے زیرقبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں