.

داعش شکست کے بعد دہشت گردی پر اتر آئے: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سنٹرل کمان کے سربراہ آرمی جنرل جوزف ووٹیل نے کہا ہے کہ عراق میں داعش پے درپے شکستوں کے بعد اب دہشت گردی پر اتر آئے ہیں۔انھوں بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں داعش کے حملہ آوروں کے حالیہ بم دھماکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگجو اپنی اصل یعنی دہشت گردی کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ داعش اپنی خلافت کے قیام کے لیے خواہشات سے دستبردار ہوگئے ہیں بلکہ انھوں نے میدان جنگ میں اپنی حالیہ شکستوں سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے حربے اختیار کرلیے ہیں''۔

جنرل ووٹیل نے مشرق وسطیٰ کے لیے سفر کے دوران رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''گذشتہ ہفتے کے دوران بغداد میں بم دھماکے اس جنگ کے کثیر الجہت ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔ہمیں اپنے دشمنوں اور میدان جنگ میں ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور میدان جنگ میں ان سے نمٹنا ہوگا''۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش نے بغداد میں بم حملوں کے ذریعے عراقی حکومت کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ شمالی شہر موصل پر داعش کا قبضہ چھڑانے کے بجائے دوسری جانب اپنی توانائیاں صرف کرے اور عراقی فورسز کی توجہ بھی ان کے خلاف کارروائی کے بجائے دوسری جانب مرکوز ہوجائے۔

امریکی جنرل کے بہ قول داعش عراق میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سے چالیس فی صد سے محروم ہو چکے ہیں۔اس لیے وہ شاید اپنی اصل دہشت گردی کی جڑ کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

جنرل ووٹیل عراق اور افغانستان میں جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں۔انھیں دو ماہ قبل ہی امریکی مسلح افواج کی مرکزی کمان کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔قبل ازیں وہ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے کمانڈر تھے۔اب وہ عراق اور شام میں امریکا کی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ افغانستان سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی سرگرمیوں کے ذمے دار ہیں۔