.

سعودی شوریٰ کے ارکان کی خواتین کو فوج میں بھرتی کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے بعض ارکان اور سکیورٹی ماہرین نے سعودی خواتین کو فوج میں بھرتی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہلکے ہتھیار چلانے کے لیے لازمی عسکری تربیت دی جانا چاہیے۔

سعودی شوریٰ کی سکیورٹی کمیٹی کے ڈپٹی چئیرمین میجر جنرل علی التمیمی نے تاریخی حوالے سے بتایا ہے کہ اسلام خواتین کو عسکری امور اور فوج میں خدمات انجام دینے سے منع نہیں کرتا ہے اور قرونِ اولیٰ کے دور میں خواتین خدمتِ اسلام کے لیے جہاد میں حصہ لیتی رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ''سعودی عرب فوجی سروس میں خواتین کے کردار کی اہمیت سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔خواتین فوج میں شمولیت کی صورت میں مختلف سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔وہ سکیورٹی کارروائیوں ،معائنے ،تفتیش ،حسابات اور مالی انتظامات کے شعبوں میں خدمات انجام دے سکتی ہیں''۔

شوریٰ کونسل کے ایک اور رکن سلطان السلطان کا کہنا تھا کہ خواتین کو دہشت گرد خواتین کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تربیت دی جاسکتی ہے۔

انتہا پسند گروپوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے ایک محقق احمد الموکلی نے تجویز پیش کی ہے کہ خواتین کو تعلیم ،ثقافت ،پیشہ ورانہ امور اور فنی شعبوں میں تربیت دی جانی چاہیے۔ان کے بہ قول پاسپورٹس اور جنرل سکیورٹی کے محکمے سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کامیابیوں سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔