ایرانی مسافر طیاروں سے شام کوجنگجوؤں اور اسلحہ کی سپلائی!

’ماھان ایئر‘ پاسداران انقلاب کی پسندیدہ فضائی کمپنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جانب سے شام میں بشار الاسد کی کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کے لیے اسلحہ اور جنگجوؤں کی فراہمی کی خبریں نئی نہیں تاہم اس ضمن میں ایک تازہ پیش رفت ایک جرمن اخبار کی جانب سے سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے مسافر بردار فضائی کمپنیاں ایران، لبنان اور عراق سے جنگجوؤں کو شام منتقل کرنے میں ملوث ہیں۔

جرمنی سے شائع ہونے والے موقر اخبار "بیلڈ" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کی ایک فضائی کمپنی باقاعدگی کے ساتھ ایران اور دوسرے ملکوں سے جنگجو اور اسلحہ شام پہنچا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بشارالاسد کو اسلحہ اور افرادی قوت فراہم کرنے والی یہ ایرانی کمپنی "ماھان ایئر" ہے جس کے 54 مسافر طیارے دنیا کے مختلف ملکوں میں مسافروں کو لے جاتے ہیں۔ اس کمپنی کی پروازیں جرمن شہروں میونخ اور ڈوسلڈوف بھی میں آتی ہیں۔ جرمنی اور یورپی یونین کی جانب سے اس کمپنی پر عاید امریکی پابندیوں کا نفاذ مسترد کردیا تھا جس کے نتیجے میں یہ فرم اپنی مسافر پروازیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگجو اور اسلحہ شام منتقل کرنے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب کی پہلی ترجیح "ماھان ایئر" ہے یہ کمپنی باقاعدگی کے ساتھ اگست 2015ء سے جنگجو اور اسلحہ شام، لبنان اور عراق منتقل کر رہی ہے۔

بیلڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہان ایئر کی شام کے لیے ہونے والی تمام پروازیں خفیہ ہوتی ہیں مگر Flightradar24 نامی ایک ویب سائیٹ نے ماہان ائیر کے بارے میں بالکل ہی مختلف قسم کی معلومات دی ہیں۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے لیے خفیہ پروازیں کرنے والے ماھان ایئر کے طیارے تہران اور عبدان کے ہوائی اڈوں سے اڑانیں بھرتے ہیں۔

عبدان ہوائی اڈہ عراق کے البصرہ شہر سے محض چند کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے اور اس ہوائی اڈے پر لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی سرگرم رہ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں