عالمی پابندیاں: ایران کے لیے روسی ٹینک حرام میزائل حلال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے متنازع جوہری پروگرام اور ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری کی وجہ سے عاید عالمی اقتصادی پابندیوں کے جلو میں روس نے تہران کے حوالے سے دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ماسکو ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ ایران پرعاید عالمی اقتصادی پابندیوں کی حمایت کرتے ہوئے ان پرعمل درآمد کررہاہے جب کہ دوسری طرف تہران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی دیے جا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی حکومت نے ایران کو جنگی طیارے اور ٹینک فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم ماسکو کی طرف سے تہران کو "ایس 300" نامی میزائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی "ٹاس" نے روس کی فیلڈرل ملٹری تکنیکی تعاون ایجنسی کے چیئرمین الیکذنڈر فومین کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ماسکو ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے طیارے اور ٹینک تو فروخت نہیں کرے گا تاہم ایس 300 نامی میزائلوں کی فروخت جاری رہے گی۔

روسی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی منسوخی کی صورت میں ماسکو تہران کو جنگی طیارے، ٹینک، غیرمہلک ہتھیار، فضائی آلات، سائبر جنگ کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور جنگ کے لیے استعمال ہونے والی کشتیاں اوربحری جہاز بھی فراہم کرنا شروع کردے گا۔

مسٹر فومین کا کہنا تھا کہ روس نے حسب وعدہ ایران کو "ایس 300" میزائل فروخت کیے ہیں۔ ان میزائلوں کی اگلی قسط بھی جلد ہی جاری کردی جائے گی تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ آیا اب تک وہ اس نوعیت کے کتنے میزائل ایران کو دے چکے ہیں اور مزید کتنے میزائل تہران کو دیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں