نیٹو طیارے داعش کے خلاف جنگ میں فضائی نگرانی کریں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنی حمایت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے جدید طیارے اس جنگجو تنظیم کی سرگرمیوں کی فضائی نگرانی کر سکتے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے برسلز میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ اواکس طیارے نیٹو کے علاقے اور بین الاقوامی فضائی حدود میں پروازیں کرسکتے ہیں اور اس طرح وہ جہادی گروپ کے خلاف جنگ میں مدد دیں گے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''ہم نے وزیراعظم حیدرالعبادی کی عراق میں تربیتی مشن کو توسیع دینے کے بارے میں درخواست پر غور کیا ہے اور ہم نے جلد سے جلد ایک جائزہ مشن عراق بھیجنے سے اتفاق کیا ہے''۔واضح رہے کہ نیٹو کے افسر اس وقت اردن میں عراقی افسروں کو تربیت دے رہے ہیں۔

اواکس طیاروں پر طاقتور راڈار نصب ہیں اور وہ ان کی مدد سے سیکڑوں کلومیٹر دور تک فضائی نگرانی کرسکتے ہیں۔وہ بمباری سمیت دوسری فضائی کارروائیاں بھی کرسکتے ہیں۔

فروری میں اتحاد نے داعش کے خلاف جنگ میں فضائی نگرانی کے لیے اواکس طیارے مامور کرنے سے متعلق امریکا کی درخواست سے اصولی اتفاق کیا تھا۔اس سمجھوتے کے تحت نیٹو کے طیارے براہ راست انتہا پسندوں کی نگرانی نہیں کریں گے بلکہ امریکا اور اتحاد کے طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کی غرض سے معاونت کریں گے۔

واضح رہے کہ نیٹو کے بہت سے ممالک داعش کے خلاف جنگ میں براہ راست شرکت کے مخالف ہیں۔جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نیٹو کی داعش کے خلاف جنگ میں باضابطہ شمولیت یقینی طور پر درخواست کا جواب نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں