تائیوان : ملک کی پہلی خاتون صدر نے حلف اٹھا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تائیوان میں تسائی انگ ون نے جمعہ کی صبح ملک کی پہلی خاتون صدر کے طور پر منصب سنبھال لیا ہے۔ تسائی نے جنوری میں ہونے والے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔

رائے دہندگان کے نزدیک سابق صدر ما ینگ یو چین کی قربت میں بہت دور نکل گئے تھے اور اس کے نتیجے میں تائیوان کی خودمختاری کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا جس کو چین ابھی تک اپنی اراضی میں شمار کرتا ہے۔

تسائی کا تعلق پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جو روایتی طور پر اپنے خودمختارانہ مواقف کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

ماسٹرز ڈگری کی حامل تسائی نے انتخابی مہم کے دوران تقاریر میں دھیما لہجہ اختیار کیا مگر انہوں نے اپنی تمام تر توجہ تائیوان میں فخر کے احساس پر مرکوز رکھی۔

ان کے اس انداز کو ہم وطنوں کی جانب سے اچھا ردعمل موصول ہوا جو چین کے زیر سایہ زندگی گزار کر بیزار ہوچکے ہیں۔

ایوان صدارت کے سامنے جمع ہونے والے تقریبا 20 ہزار افراد کے سامنے تسائی نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا اور تائیوان کے پرچم کے سامنے حلف اٹھایا۔

ماضی میں تائیوان نے کبھی خودمختاری کا مطالبہ نہیں کیا۔ 1992 میں بیجنگ اور تائے پے کے درمیان تصفیے کے متن میں ہے کہ "صرف ایک چین" پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر فریق کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اس کا جیسا مطلب لینا چاہتا ہے لے سکتا ہے۔

تاہم تسائی کی پارٹی نے 1992 کے تصفیے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور بیجنگ چاہتا ہے کہ نئی صدر اس کو تسلیم کرلیں۔ دوسری جانب تسائی نے محض بیجنگ کے ساتھ "موجودہ صورت حال" کو برقرار رکھنے کے وعدے پر اکتفا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں