ترکی 3000میں یورپی یونین کا رکن بنے گا: کیمرون کی پھبتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو اپنے ملک کی مستقبل میں یورپی یونین میں شمولیت برقرار رہنے کے بارے میں تو شاید پختہ یقین نہ ہو لیکن وہ ترکی پر پھبتی کس رہے ہیں کہ وہ سنہ 3000ء میں ہی یورپی یونین کا رکن بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں 23 جون کو ملک کی یورپی یورنین میں شمولیت برقرار رکھنے یا تنظیم سے اخراج کے سوال پر ریفرینڈم ہورہا ہے۔ڈیوڈ کیمرون ملک کی تنظیم میں رکنیت برقرار رکھنے کے حامی ہیں جبکہ اخراج کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی یورپی یونین کا رکن بن جاتا ہے تو پھر ہرسال ایک لاکھ بیالیس ہزار ترک شہری برطانیہ آیا کریں گے۔

لیکن برطانوی وزیراعظم نے ان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم سے اخراج کے لیے مہم چلانے والے ترکی سے متعلق بہت گم راہ کن اور غلط دعوے کررہے ہیں۔

انھوں نے اپنے تئیں ایک ''حقیقت'' کی وضاحت کی ہے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین کا رکن نہیں بھی رہتا تو اس کے باوجود ہر ملک کی طرح اس کے پاس بھی کسی نئے ملک کی تنظیم میں شمولیت سے متعلق فیصلے کے حوالے سے ویٹو اختیار رہے گا۔

ڈیوڈ کیمرون بہت دور کی کوڑی لائے ہیں اور انھوں نے ''پیشین گوئی'' کی ہے:''ترکی کی جلد کسی وقت یورپی یونین میں شمولیت کا معاملہ زیرغور نہیں ہے۔ان کی موجودہ پیش رفت کے مطابق تو وہ سنہ 3000 ہی میں تنظیم کا رکن بن سکے گا''۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں مہم کی لندن کے سابق میئر بورس جانسن قیادت کررہے ہیں۔انھوں نے یورپی یونین کے اہداف کا نازی ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کے اہداف سے موازنہ کیا ہے۔دوسری جانب تنظیم میں شمولیت برقرار رکھنے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اٹھائیس رکنی تنظیم سے اخراج کا مطلب داعش کے انتہاپسندوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے سکیورٹی چیفس ،کاروباری شخصیات اور فن سے وابستہ تین سو معروف شخصیات نے تنظیم میں موجود رہنے کی حمایت کی ہے۔امریکی صدر براک اوباما اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سمیت بعض عالمی لیڈروں بھی برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں