حادثے سے قبل مصری طیارے کے کیبن میں دھوئیں کی اطلاعات

مصر کی جانب سے دھوئیں کی موجودگی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دو روز قبل فرانس سے آتے ہوئے بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مصر کے مسافر بردار جہاز کے حادثے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک کی تحقیقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی البتہ حادثے سے قبل طیارے میں دھوئیں کی موجودگی کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

فرانس کے فضائی سلامتی کے ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حادثے سےچند لمحات قبل طیارے کے اندر سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا تھا۔ ادارے کا مزید کہنا ہے کہ دھواں اٹھنے کے بعد طیارے کے خود کار اشارے روشن ہوگئے تھے۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے بھی تحقیق کاروں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والی مصری پرواز کے کیبن سے دھواں اٹھا تھا۔ دھواں اٹھنے کے چند ہی منٹ کے بعد طیارہ بحیرہ روم میں کر گر کر تباہ ہو گیا۔

دوسری جانب مصری شہری ہوابازی کےادارے نے حادثے کا شکار ہونے والی پرواز’’ائیر بس اے، 320‘‘ سے دھواں اٹھنے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

فرانسیسی فضائی سلامتی کےادارے کی جانب سے حادثے کے تحقیق کاروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طیارے کے حادثے سے دوچار ہونے سے چند منٹ قبل دھوئیں کی موجودگی کا پتا چلا تھا تاہم ابھی تک اس دھوئیں کی حقیقت کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فی الوقت اس دھوئیں کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔ جب تک طیارے کا ملبہ اور بلیک بکس نہیں مل جاتے اس وقت تک دھوئیں کے بارے میں باتیں قیاس آرائیاں ہی رہیں گی۔

جمعہ کی شام امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ طیارے کے کیبن سے اٹھنے والے دھوئیں کے بعد ہوائی جہاز کے خود کار اشارے حرکت میں آ گئے تھے، جو اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ طیارے میں کوئی خرابی پیدا ہوئی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس پر مصری شہری ہوابازی کے ادارے کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال اس کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے ہیں۔

اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے تحقیق کاروں کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ گہرے دھوئیں سے ایک یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس سے طیارے کے سامنے والے حصے جہاں پر جہاز کا اہم ترین حصہ اور الیکٹرانک پینل ہوتے ہیں کے انتباہی ٹریگر حرکت میں آتے ہیں۔ طیارے کا سامنے کا یہ حصہ کمپیوٹر ریمورٹ کنٹرول سسٹم پر مشتمل ہوتا ہے اور یہیں سے طیارے کو کنٹرول کیا جاتا اور اڑایا جاتا ہے۔ اگر انتباہی سگنل روشن ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ طیارے میں کسی قسم کی گڑ بڑ ہوئی ہے۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ انتباہی سنگل کے روشن ہونے سے یہ قطعاً ثابت نہیں ہوتا کہ واقعی طیارے میں کوئی بم دھماکہ ہوا ہے یا ایسا کوئی دوسرا ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔

امریکا کے ’سی این این‘ ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے نشرکی گئی ایک رپورٹ میں بھی حادثے کا شکار ہونے والی پرواز میں دھوئیں کا ذکرموجود ہے۔ ٹی وی رپورٹ نے دھوئیں کی موجودگی کی اطلاع مصری ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ اس کے علاوہ طیارے کے حادثے کے چار ممکنہ اسباب بھی بیان کیے ہیں۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ایڈووکیٹ احمد ابو زید نے سی این این کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہواباز کی خود کشی کے امکان کو رد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب بدقسمت طیارے کے پائلٹ کے اہل خانہ سوگ منا رہے ہیں۔ اس نوعیت کی باتیں کرنا احترام کے خلاف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں