صدر ایردوآن کے وفادار بن علی یلدرم ترکی کے نئے وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے ٹرانسپورٹ کے وزیر بن علی یلدرم کو آج اتوار کو حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کا سربراہ اور ملک کا وزیراعظم نامزد کیا جارہا ہے۔

حکمران جماعت کی آج غیر معمولی کانگریس منعقد ہورہی ہے اور اس میں بن علی وزارت عظمیٰ کے لیے واحد امیدوار ہیں۔انھیں آق کا چئیرمین چُن لیا جائے گا اور یوں وہ وزیر اعظم بھی نامزد ہوجائیں گے۔

مبصرین کے مطابق حکومت کا سربراہ بننے کے بعد ان کا سب سے بڑا کام آئین میں ترامیم کرانا ہوگا جس کے تحت ترکی میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام رائج کیا جائے گا اور اس طرح صدر ایردوآن کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔

ساٹھ سالہ بن علی وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی جگہ لیں گے۔انھیں صدر ایردوآن سے اختلافات کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ان دونوں لیڈروں کے درمیان کرد باغیوں کے ساتھ امن عمل ،ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ مہاجرین کے معاہدے اور ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے ایسے معاملوں پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بن علی یلدرم صدر ایردوآن کے معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور انھوں نے کبھی صدر سے پالیسی ایشوز پر اختلاف نہیں کیا۔اب وہ ان کے لیے زیادہ لچکدار شخصیت ثابت ہوں گے جس سے وہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنا سکیں گے۔

سیاسی تجزیہ کار گوکھن بیچک کا کہنا ہے کہ یلدرم ترکی کے آخری وزیراعظم ثابت ہوسکتے ہیں۔وہ صدارتی نظام میں ایردوآن کے نائب کا کردار ادا کریں گے۔ان کی رائے میں ایردوآن مستقبل میں نئی کابینہ میں خارجہ اور اقتصادی پالیسی کی خود نگرانی کریں گے۔

یادرہے کہ 1990ء کی دہائی میں جب ایردوآن استنبول کے مئیر تھے تو یلدرم استنبول فیری کمپنی کے سربراہ تھے۔سنہ 2002ء میں اسلامی جڑیں رکھنے والی آق پارٹی کی پارلیمانی انتخابات میں جیت کے بعد انھیں ٹرانسپورٹ کا وزیر بنایا گیا تھا۔2013ء تک ان کے پاس اسی وزارت کا قلم دان رہا تھا اور 2015ء میں انھیں احمد داؤد اوغلو کی کابینہ میں دوبارہ ٹرانسپورٹ کا وزیر بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں