علاج سے محروم بیوی قتل، سپرپاور کی اصلیت بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج تک یہ تاثر عام رہا ہے کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک سپرپاور امریکا ایسی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں میں امریکیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عوامی فلاحی مملکت[امریکا] میں ہر شہری کو صحت کی سہولیات اس کے گھر کی دہلیز پر دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے امراء اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد علاج کے سات سمندر پار امریکا کا رخ کرتے ہیں۔ مگر حال ہی میں ایک معمر مریضہ کے شوہر کے ہاتھوں قتل کے واقعے نے امریکا میں صحت عامہ کی سہولیات کی قلعی کھول کر رکھی دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ امریکا میں صحت کی سہولیات بھی کھوٹے نگوں کی ریزہ کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جہاں ایک معمر شخص کو اپنی بیوی کے علاج کے لیے رقم دستیاب نہ ہو اور کوئی اسپتال، ادارہ یا حکومت بوڑھی بیمار عورت کا سہارا نہ بن سکے وہ ایک بہترین عوامی فلاحی مملکت کیسے قرار دی جا سکتی ہے۔

امریکی اخبار’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے چونکا دینے والا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ حال ہی میں 86 سالہ ولیم ھاگر نامی ایک بوڑھے نے اپنی 78 سالہ بیوی کیرولین ہاگرکو سوتے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا کیونکہ اس کے پاس بیوی کے علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ پولیس نے قاتل شوہر کو حراست میں لیا ہے مگر اس واقعے نے انکل سام کی عوامی فلاحی ریاست ہونے کے دعوؤں کی اصلیت بے نقاب کر دی ہے

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ریاست فلوریڈا میں پیش آیا جہاں ولیم ھاگر نے اپنی اہلیہ کیرولین ہاگر سے 50 سالہ رفاقت کا اختتام کرتے ہوئے اس کے سرمیں گولیاں مار دیں، جس کے نتیجے میں پندرہ سال سے بستر علالت پرپڑی اس کی اہلیہ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

پولیس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ولیم ہاگر کا کہنا تھا کہ اس سے بیوی کی بیماری اور مسلسل تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بیوی کے علاج کے لیے اس کے پاس رقم بھی نہ تھی۔ اس لیے مناسب یہی سمجھا کہ اسے اس بیماری کی ذلت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دے دی جائے۔ چنانچہ اس نے پستول اٹھائی اور اس کے سر میں کئی گولیاں مار دیں۔ امریکا میں پیش آنے والا یہ واقعہ حکومتی بے حسی، معاشرتی لا ابالی کے ساتھ بوڑھے اور ریٹائرڈ افراد کو ملنے والی معمولی پنشن اور ان کی مالی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں