.

یمن امن مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے کہا ہے کہ یمنی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت ہورہی ہے اور ملک کے بیشتر علاقوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

وہ اتوار کو قطری دارالحکومت دوحہ میں ایک فورم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا یمن میں جنگ بندی پر 80 سے 90 فی صد تک عمل درآمد کیا جارہا ہے۔البتہ بعض مقامات پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں مدد ملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کویت میں جاری امن مذاکرات کے دوران بیشتر متنازعہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور فریقین تنازعے کے حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

درایں اثناء سفارتی ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ یمنی حکومت کے وفد کو اقوام متحدہ کے ایلچی کی جانب سے ایک خط ملا ہے۔اس میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ تنازعے کا حل قانونی حاکمیت ،خلیجی ممالک کے اقدام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر مبنی ہوگا۔

گذشتہ سال اپریل میں سلامتی کونسل میں منظور کردہ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اپنے ہتھیار ڈال دے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردے۔کویت میں اقوام متحدہ کے ایلچی کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں یمنی حکومت کا وفد بھی تنازعے کے حل کے لیے اس قرارداد پر مکمل عمل درآمد پر زور دے رہا ہے۔

عدن میں مظاہرین پر فائرنگ

درایں اثناء یمن کے دوسرے بڑے شہر عدن میں شہریوں نے برقی رو کے تعطل کے خلاف احتجاج کیا ہے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

عدن کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باوجود بجلی کی سپلائی منقطع کی جارہی ہے جس کے خلاف بیسیوں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق شہر کے مکینوں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے بعض سڑکیں بند کردی تھیں اور ٹائر جلائے جس پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔

گذشتہ سال عدن میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں بجلی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔سرکاری فوج اور اس کے اتحادیوں نے گذشتہ سال جولائی میں حوثیوں کو عدن سے نکال باہر کیا تھا۔اس کے بعد سے اب تک برقی رو کے تمام نظام کو پوری طرح بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔یمنی وزیر اعظم احمد بن دغر نے بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں حوثیوں پر ملکی معیشت کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ ملک کا دیوالہ نکلنے کو ہے۔