.

حمزہ بن لادن کی ایران کی پناہ سے القاعدہ کی قیادت تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی شہرت یافتہ شدت پسند تنظیم القاعدہ اپنے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد قیادت کے فقدان کا شکار رہی ہے مگر مبصرین اور اسلامی شدت پسند تنظیموں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقتول بن لادن کے صاحبزادے حمزہ بن لادن خود کو اپنے والد کی جگہ تنظیم کا نیا سربراہ بنائے جانے کی ذہنی طور پر تیاری کررہے ہیں۔

حال ہی میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے القاعدہ کے نئے ’امیر‘ حمزہ اسامہ بن لادن اور ان کی والدہ خیریہ صابر کی ایران میں پناہ اور اس کے بعد کے حالات پر خفیہ دستاویزات کی روشنی میں ایک مفصل رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 9 مئی 2016ء کو حمزہ بن لادن کی جانب سے جاری ردہ ایک صوتی بیان القاعدہ کے میڈیا سیل "السحاب" فاؤنڈیشن پر نشر کیا گیا جس میں حمزہ نے اپنے والد کی طرح جہادی لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے بیت المقدس کی آزادی کی بات کی۔ حمزہ بن لادن کے آڈیو بیان کو "القدس دلہن اور ہمارا خون حق مہر" کا عنوان دیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حمزہ بن لادن کی جانب سے جاری کردہ بیان سے آپس میں دست و گریباں جہادی تنظیموں پر اس کے کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

چوبیس سالہ حمزہ بن لادن کئی سال تک اپنی والدہ خیریہ صابر کے ہمراہ ایران میں رپوش رہے۔ حال ہی میں السحاب فاؤنڈیشن پر جہاں حمزہ بن لادن کا صوتی بیان سامنے آیا وہیں القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کا بیان بھی سامنے آیا۔ بادی النظر میں ایسے لگ رہا ہے کہ حمزہ اور الظواہری تنظیم کی صفوں میں موجود قیادت کے خلاء کو پر کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں تنظیم کی تین ذیلی شاخوں جہادی، سیاسی اور شرعی شعبوں کی قیادت کے لیے الگ الگ رہ نماؤں کی خدمات ان کی اولین ترجیح ہے۔ خاص طور پر شام میں جاری لڑائی کے جلو میں القاعدہ کی تنظیم نو حمزہ بن لادن کی پہلی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ وہ تمام عسکری اور جہادی گروپوں کومجمتع کرنا چاہتے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں القاعدہ کے فکرو خیال سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

جہاں تک القاعدہ کے جہادی سیل کی قیادت کا تعلق ہے اس کے لیے حمزہ بن لادن کو موزوں خیال کیا جا رہا ہے۔ القاعدہ کے جنگجوؤں کا خیال ہے کہ حمزہ بن لادن کی عسکری رہ نمائی اور تربیت ان کے والد اسامہ بن لادن نے خود کی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں افغانستان کے سرکردہ طالبان رہ نماؤں کی رہنمائی اور معاونت بھی حاصل رہی اس لیے وہ تنظیم کے جہادی اور عسکری شعبے کو زیادہ بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔ تنظیم کے سیاسی شعبے کو اخوان المسلمون کی شکل میں منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اخوان کا کئی ممالک میں سیاسی تجربہ ہے۔ البتہ تنظیم کے شرعی اور آئینی امور کی نگرانی کے لیے سلفی جہادی رحجان رکھنے والے عبداللہ المحیسنی کا نام زیر غور ہے۔

حمزہ بن لادن اور اس کی والدہ خیریہ بن لادن

حمزہ بن لادن سنہ 1991ء کو بن لادن کی تیسری بیوی خیریہ صابر کے ہاں پیدا ہوئے۔ خیریہ صابر چلڈرن سائیکیالوجی میں جدہ کی شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرچکی ہیں اور ایک پڑھی لکھی خاتون سمجھی جاتی ہیں۔ وہ جدہ اور پھر سوڈان میں بن لادن کے ہمراہ رہیں۔ خیریہ سے بن لادن کی حمزہ کے سوا اور کوئی اولاد نہیں۔

حمزہ اور اس کی والدہ خیریہ صابر ناین الیون کے حملوں کے بعد خاندان کے بعض دیگر افراد ہے ہمراہ ایران منتقل ہوگئیں۔ تہران میں پناہ کے عرصے کے دوران کی جو تفصیلات آج تک سامنے آئی ہیں ان سے آشکار ہوتا ہے کہ حمزہ کو نہ صرف ایران کی خصوصی رہ نمائی اور تربیت حاصل رہی بلکہ انہیں طالبات قیادت کی طرف سے بھی مکمل رہ نمائی فراہم کی گئی اور یہ سب کچھ القاعدہ اور ایران کےدرمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہوا۔

ایران میں پناہ

اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں قائم مبینہ ٹھکانے سے ملنے والے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا کہ بن لادن نے 18اکتوبر سنہ 2007ء کارم نامی ایک جنگجو کو لکھا کہ وہ مشاورت کے بغیر ایران کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کرنے سے سختی سے گریز کریں اور ایران کے خلاف کسی قسم کا محاذ نہ کھولیں۔ اسی طرح کی ہدایت لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے بارے میں بھی کی گئیں۔ مکتوب میں کہا گیا کہ ’آپ تو جانتے ہیں کہ ایران ہمارے افراد، اموال اور مکتوبات کی اہم ترین گذرگاہ ہے۔"

اسی مکتوب میں بن لادن نے ایرانی یرغمالیوں کے بارے میں مذاکرات کی بات بھی کی تاہم انہوں نے یرغمالیوں کی شناخت ظاہر نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے خاندانوں اور رہ نماؤں کے بدلے میں ایرانی یرغمالیوں کی رہائی کی بات کی جائے۔

سعد اور اس کی بیوی کی ایران سے واپسی کے چند ماہ بعد بن لادن نے تنظیم کے رہ نماؤں کو ایک اور مکتوب ارسال کیا جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ ’ایرانی قیادت کے مدبرین‘ سے معاملات کے حل اور ذرائع ابلاغ میں آنے سے قبل تنازعات حل کریں۔ بن لادن نے لکھا کہ مجھے امید ہے کہ ایرانی قیادت تہران میں ہمارے قیدیوں کی مشکلات سے بہ خوبی آگاہ ہوگی۔ میں ایرانی حکام کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے ہاں پناہ لینے والے ہمارے ساتھیوں کو ان کے اپنے ملکوں کی حکومتوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہی میں بن لادن کے فرزند سعد بن اسامہ کی اہلیہ خدیجہ جس کا تعلق سوڈان سے کو خرطوم حکومت اپنے ملک میں واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ اسی طرح میرے دوسرے بیٹے محمد، ان کی بہنیں اور خالائیں جزیرۃ العرب نہیں جا سکتی ہیں۔

ایران نے بن لادن کے یرغمال رہا کردئیے

بن لادن کے ان مکتوب کے منظرعام پر آنے کے بعد القاعدہ ایران میں یرغمال بنائے گئے تنظیم کے اہم ارکان اور خاندانوں کو رہا کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ ایران سے رہائی کے بعد بن لادن کا ایک بیٹا محمد محمد شام روانہ ہوگیا جب کہ دیگر افراد پاکستان بھیج دیے گئے۔ اسی عرصے میں خالد بن لادن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام اپنے مکتوب میں اپنے والد کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی اور یہ توقع ظاہر کی تھی کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایشو مغربی اور عرب اخبارات سے خفیہ رکھا جائے گا۔

خود اسامہ بن لادن نے ایک مکتوب حمزہ کی والدہ خیریہ صابر کے نام لکھا۔ اس مکتوب میں انہوں نے ایرانیوں سے رہائی پر انہیں مبارک باد پیش کی تھی۔

خفیہ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بن لادن نے خیریہ صابر کو پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں روپوش کرنے اور بیٹے حمزہ کو اس علاقے میں موجودہ القاعدہ جنگجوؤں کے ہمراہ رکھنے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔

بن لادن کے شکوک وشبہات

اگرچہ اسامہ بن لادن ایران میں موجود اپنے خاندان کو پاکستان کے علاقے وزیرستان منتقل کرنا چاہتے تھے مگرانہیں ایران کے حوالے سے بھی کئی قسم کے شکوک وشبہات تھے۔ ان کا یہ گمان بھی تھا کہ ایران ان کے خاندان کی رہائی کی آڑ میں [بن لادن] کی پناہ گاہ کا بھانڈہ پھوڑ سکتا ہے۔

خیریہ صابر کے نام ایک مکتوب میں بن لادن نے لکھا کہ اگر وزیرستان میں حالات بدلنے لگیں اور حمزہ شام جانے کا پروگرام بنائے تو تم واپس حجاز جانے کی کوشش کرنا۔ ساتھ ہی انہوں نے استفسار بھی کیا کہ کیا انہیں ایران سے رہائی کے بعد یا اس دوران کسی بات پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ یا تو آپ کسی خلیجی ملک کا شام چلے جانا۔ اس حوالے سے اپنی ،محمد اور اس کی بہنوں کی رائے سے آگاہ رکھنا۔

حمزہ کی اپنے والد سے ملاقات کیوں نہ ہوسکی

بن لادن کی پاکستان میں امریکی فوج کے خفیہ آپریشن میں ہلاکت کے ایک ماہ بعد انکشاف ہوا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے وقت بن لادن کا بیٹا حمزہ ایران میں تھا۔ بن لادن کے رابطہ کاروں نے بتایا کہ القاعدہ سربراہ خود ہی اپنے بیٹے حمزہ سے ملاقات سے گریز کی کوشش کررہے ہیں۔ کیونکہ اگر ان کی ملاقات کا اہتمام کرایا جاتا ہے تو اس طرح ان کے پکڑے جانے کا ڈر ہے۔

اگرچہ اس سے قبل بن لادن کے خیریہ صابر کے نام مکتوبات میں انہیں خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ پاکستان منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ایک مکتوب میں بن لادن نے اپنی اہلیہ کو لکھا تھا کہ جب تک ان کی پاکستان منتقلی کا انتظام نہیں ہوجاتا وہ حمزہ کو اپنے ساتھ رکھے۔

اپریل سنہ 2011ء کو بن لادن کے قتل سے ایک ماہ قبل ان کے ایک رابطہ کار عطیۃ اللہ اللیبی القاعدہ اور ایران کے درمیان مراسلت کی تھی جس میں انہوں نے حمزہ اور اس کی والدہ کو ایران سے پاکستان منتقل کرنے اور حمزہ کی اس کے والد سے ملاقات کرانے کی بھی کوشش کی تھی۔

اس مکتوب سے ایک سال قبل نومبر 2010ء کو جاری کردہ ایک مکتوب میں محمود کے نام سے کام کرنے والے بن لادن کے رابطہ کار نے اسامہ کو لکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے حمزہ کی عسکری تربیت کی اجازت دیں۔ نیز یہ کہ حمزہ بن لادن کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے القاعدہ میں کسی قسم کی تخصیص کا خواہاں نہیں ہے۔

حمزہ بن لادن ایران میں

حمزہ بن لادن اپنی والدہ خیریہ صابر کے ہمراہ دس سال تک ایران میں رہا۔ خیریہ اور حمزہ خاندان کے بعض دوسرے افراد کے ہمراہ 11 ستمبر2001ء کو ایران منتقل ہوئے اور سنہ 2011ء تک وہ ایران میں رہے۔

حمزہ نے ناین الیون کے واقعے کے بعد افغانستان چھوڑ کر ایران میں سکونت اختیار کی تو اس وقت اس کی عمر گیارہ برس تھی۔ بن لادن نے اپنے مکتوبات میں القاعدہ کے ذمہ داران کو لکھا کہ وہ حمزہ کی تعلیمی، فکری اور نظریاتی پختگی پر توجہ دیں اور اس کی عسکری تربیت کو اولین ترجیح نہ دیں۔ بہ ظاہرایسے لگ رہا تھا کہ بن لادن حمزہ کو عسکری محاذ سےدور رکھنا چاہتے تھے۔

تاہم حمزہ کے اپنے مکتوبات سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ خود ہی عسکری تربیت کے حصول اور لڑائی میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ اپنے ایک مکتوب میں اس نے والد [بن لادن] کو لکھا کہ میں آپ کے ساتھ کچھ وقت گذرانے کا خواہاں ہوں تاکہ اس کے بعد میں دین کی بہتر خدمت کے لیے میدان کارزار کی طرف نکل سکوں۔ میں کسی عسکری کیمپ سے وابستگی اختیار کرکے ٹریننگ لینا چاہتا ہوں تاکہ عسکری تربیت کے حصول کے بعد افغانستان کے محاذ پر اللہ کے دشمنوں سے لڑ سکوں۔

حمزہ کے مکتوبات اور ہدایات

امریکی 'سی آئی اے' کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بن لادن نے اپنی وفات سے قبل ہی بیٹے کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرنا اور اسے تربیتی مراحل سے گذارنا شروع کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حمزہ کم عمری کے باوجود القاعدہ کے جہادیوں میں گہرا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ اگرچہ سنہ 1991ء میں پیدا ہونے والے حمزہ بن لادن کے بارے میں بہت سی معلومات پردہ راز میں ہیں۔ وہ جنگجوئوں کے جُھرمٹ میں پہلی بار سنہ 2005ء میں ایک ویڈیو فوٹیج میں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منظرعام پر آیا۔

حمزہ نے اپنے صوتی پیغامات میں القاعدہ جنگجوؤں کو کابل، بغداد، فلسطین کے علاقے غزہ میں حملوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ، امریکا اور فرانس میں حملوں کی بھی ہدایات کیں۔

سنہ 2008ء میں جب حمزہ کی عمر 18 سال تھی تب اس نے اپنے ایک پیغام میں برطانیہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دیتے ہوئے القاعدہ سے کہا کہ وہ امریکا، ڈنمارک اور فرانس پربھی حملے کرے۔

اگست سنہ 2015ء کو حمزہ کا آڈیو پیغام ’اہل اسلام کےنام اسلام کا سلام‘ کے عنوان سے سامنے آیا۔ اس پیغام میں بھی اس نے امریکا اور اسرائیل پرحملوں کی دھمکی دی۔ افغان طالبات کے سربراہ ملا عمر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا اور جزیرۃ العرب میں سرگرم القاعدہ کے علاقائی سربراہ ناصر الوحشی المعروف بو بصیر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

القاعدہ کےمیڈیا سیل کی جانب سے نشر کردہ حمزہ کے نام منسوب بیان میں ایمن الظواہری کی بھی تعریف کی گئی ہے اور انہیں’بن لادن کا میدان جہاد میں رفیق کار‘ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ جزیرۃ العرب، شام، فلسطین، عراق، مراکش، صومالیہ، بھارت، چیچنیا اور انڈونیشیا میں سرگرم القاعدہ کی خدمات کو سراہا۔