.

ایران مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکی لابیوں نے رشوت ادا کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک معروف امریکی بین الاقوامی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وہائٹ ہاؤس کی تحقیقات سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ امریکا میں ایک پریشر گروپ "بلاؤشرز" نے ایرانی حکومت کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے مفاد میں امریکی میڈیا کو رشوت دی تھی۔ ان میں ایک لاکھ ڈالر امریکی قومی ریڈیو کو مذاکرات کے بارے میں مثبت رپورٹیں نشر کرنے کے لیے ادا کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کے نزدیک شمار کیے جانے والے "بلاؤشرز" گروپ کے مالی ذرائع نے یہ مشن "نیوکلیئر اسلحے سے پاک دنیا" کے نعرے کے تحت پورا کیا۔

خارجہ پالیسی کے لیے امریکی صدر کے ایک معاون "بین رہوڈز" نے نیویارک ٹائمز اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں امریکی حکومت کے غیرمنافع بخش تنظیموں، افزودگی کے ماہرین اور توانائی ایجنسی کے فیصلہ سازوں کے ساتھ تعاون کی نوعیت کو تفصیل سے بتایا ہے جس کا مقصد تہران پر اقتصادی پابندیاں کم کرنا تھا۔ رہوڈرز نے مضمون میں یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں "بلاؤشرز" جیسے گروپوں نے کس طرح مؤثر کردار ادا کیا۔

صدر اوباما کے ریپبلکن مخالفین کے خیال میں رہوڈز کا مضمون ایسا دستاویز ہے جو یہ ظاہر کررہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے لوگوں کو دھوکا دیا جب کہ اوباما انتظامیہ نے اس موقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین کی کوششیں درحقیقت گزشتہ سال نیوکلیئر معاہدے کی توثیق سبوتاژ کرنے میں ناکامی کی جھینپ مٹانے کا ذریعہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان گروپوں نے اپنے خصوصی منصوبوں کے لیے مختلف نیوز ایجنسیوں کو خطیر رقوم ادا کیں جب کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) جیسی معتبر ساکھ رکھنے والی ایجنسیاں اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے رقوم کی وصولی کے حوالے سے سخت قوانین کی پابندی کرتی ہیں۔

بلاؤشرز گروپ کی جانب سے امریکی قومی ریڈیو کو 2005ء سے اب تک ادا کی جانے والی رقم کم از کم 7 لاکھ ڈالر ہے۔ اس سپورٹ کی تفصیلات میں ایران کا نام خصوصی طور پر آتا رہا ہے۔

اس سلسلے میں ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تجزیوں کی حمایت کے لیے "آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن" نے 282500 ڈالر، "بُرووکنگز" انسٹی ٹیوشن نے 225000 ڈالر اور "اٹلانٹک کونسل" نے 182500 ڈالر وصول کیے جب کہ "پرنسٹن" یونی ورسٹی نے 70 ہزار ڈالر حاصل کیے۔