.

ویٹی کن میں پوپ فرانسس اور شیخ الازہر کے درمیان تاریخی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویٹی کن سٹی میں پیر کے روز پوپ فرانسس پہلی مرتبہ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کا استقبال کریں گے۔ واضح رہے کہ دنیا میں اپنی نوعیت کے دو سب سے بڑے اداروں کے درمیان تعلقات میں تقریبا ایک عشرے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔

الازہر کے سکریٹری الشیک عباش شومان کے مطابق شیخ الازہر اپنے اس دورے میں رواداری کا دُہرا پیغام لے کر جارہے ہیں۔ جس میں ایک جانب مغربی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مسلمان شہریوں کے ساتھ خطرہ ثابت ہونے والی جماعتوں والا برتاؤ نہ کریں اور دوسری جانب مسلمانوں پر زور دے کر کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے مغربی معاشروں میں گھل مل جائیں۔

جانبین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب 2006 میں سابق پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے 2006 میں اپنے ایک بیان میں اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کر دیا تھا۔ بعد ازاں 2008 میں مکالمے کا سلسلہ جزوی طور پر بحال ہوگیا۔ تاہم 2011 میں ایک مرتبہ اختلاف کے نتیجے میں تعلقات اس وقت منجمد ہوگئے جب الازہر نے مصر کے شہر اسکندریہ میں چرچ پر حملے کے واقعے سے متعلق سابق پوپ کے بیان کی شدید مذمت کی۔ پوپ فرانسس کے کیتھولک کلیسا کی صدارت سنبھالنے کے بعد بات چیت کا سلسلہ آہستہ آہستہ دوبارہ شروع ہوا۔

پوپ نے فروری میں شیخ الازہر کو ویٹی کن کے دورے کی سرکاری طور پر دعوت دی۔ اس دوران پوپ کی جانب سے اسلام کے حوالے سے رواداری پر مبنی متعدد مواقف بھی سامنے آئے۔

شیخ الازہر نے بھی ملتے جلتے مواقف پیش کیے جن میں تازہ ترین عمل مارچ میں برسلز میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اسلامی تعلیمات کے منافی کارروائی قرار دیا۔

جانبین کو امید ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں، جو کسی بھی شیخ الازہر کا ویٹی کن کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ ہے، شدت پسندی کا مقابلہ کرنے اور اقوام اور ثقافتوں کے درمیان رواداری کی اقدار پھیلانے کے حوالے سے مشترکہ مذہبی موقف سامنے آئے گا۔