.

سفارت خانے پر یلغار، حوثیوں کی امریکا سے باضابطہ معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مصدقہ سیاسی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ آئینی حکومت کا تختہ الٹ کرملک میں اتفراتفری پھیلانے والے شدت پسند حوثی گروپ نے سنہ 2014ء کے آخر میں صنعاء میں امریکی سفارت خانے پر حملے پر امریکا سے باضابطہ طور پرمعافی مانگی ہے۔

یمن کے ایک نیوز ویب پورٹل "مآرب پریس" کی جانب سے ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں کویت میں حوثی لیڈر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے امریکی سفیر سے صنعاء سفارت خانے پر حملے پر معافی مانگی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عبدالسلام نے کویت میں امریکی سفیر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے سنہ 2014ء کے آخر میں صنعاء میں امریکی سفارت خانے پرحوثی باغیوں کے حملے، سفارتی عملے اور امریکی میرینز کو یرغمال بنانے اور سفارت خانے کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر قبضے پر معافی مانگی۔

ادھر عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے یمنی حکومت اور عرب اتحاد میں شامل ممالک پر دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی ڈیل قبول کریں کیونکہ حوثی اپنے موقف سے بہت پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے’امریکا مردہ باد‘ کے نعرے کے باوجود دونوں کے درمیان پس چلمن رابطے اور قربتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں حوثی باغیوں کے ہاں امریکا مردہ باد کا نعرہ بہت کم دیکھا گیا ہے۔

صنعاء میں امریکی سفیر جیرالڈ فائر اسٹائن نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں حوثیوں کے امریکا مردہ باد نعرے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو سال قبل تک حوثی صرف ذرائع ابلاغ میں اپنی توجہ پانے کے لیے ’امریکا مردہ باد‘ کا نعرے لگاتے تھے۔