.

شام میں داعش میں شمولیت پر اماراتی لڑکے کو سزائے قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدالت عظمیٰ نے ایک پندرہ سالہ لڑکے کو شام میں داعش میں شامل ہوکر لڑنے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ابوظبی میں قائم وفاقی عدالت عظمیٰ نے اس لڑکے کے خلاف مقدمے کی سماعت کی ہے۔اس پر داعش میں شمولیت کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

استغاثہ کے مطابق یہ لڑکا پندرہ سال کی عمر میں یو اے ای سے پہلے ترکی گیا تھا اور وہاں سے وہ سرحد پار کر کے شام چلا گیا تھا۔اس لڑکے کے والد نے اس کی مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں حکام کو بتایا تھا اور انھوں نے اس کو دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واپسی پر گرفتار کر لیا تھا۔

وفاقی عدالت عظمیٰ نے اگلے روز چار اماراتیوں کو ان کی عدم موجودگی میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش میں شمولیت کے جُرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ان چار اماراتیوں کی عمریں اٹھارہ سے انتیس سال کے درمیان ہیں اور وہ مبینہ طور پر شام میں داعش میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف مہم میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ امارات میں امریکی فوج اور ان کے اڈے موجود ہیں۔