.

مُلا منصور کی ہلاکت، ایران ۔ امریکا خفیہ ڈیل کا نتیجہ؟

طالبان اور ایران کے درمیان تعلقات کے اتارو چڑھاؤ کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان تحریک طالبان کے امیر ملا اختر منصور کے مبینہ طور پرایران سے پاکستان میں داخلے کے دوران امریکی ڈرون کے ذریعے نشانہ بنائے جانے اور ملا منصور کی ہلاکت کے بعد کئی سوالات ایک بار پھر اٹھنے لگے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ کہ کیا ایران نے امریکا کے ساتھ کسی خفیہ ڈیل کے تحت ملا منصور کے قتل میں امریکیوں کی مدد کی ہے؟

پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملا منصور کو ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد نشانہ بنایا گیا مگر ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملا منصور کی ہلاکت میں اس کا کوئی ہاتھ ہے یا یہ کہ مقتول رہ نما امریکی حملے سے قبل ایران میں تھے۔ تاہم ایران نے افغانستان کی اس پر تشدد تحریک کے ساتھ اپنے روابط کی تردید نہیں کی ہے۔

اتوار کے روز پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ امریکی ڈرون حملے میں کوئٹہ کے قریب سرحدی علاقے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت ولی محمد کے نام سے کی گئی ہے اور اس کے قبضے سے ملنے والا پاسپورٹ ایران میں داخلے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

وزارت خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ اکیس مئی کو ایران، پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہلاک ہونے والے ولی محمد نامی شخص دراصل طالبان کے سربراہ ملا منصور ہی ہیں مگر انہوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے مختلف نام کے ساتھ پاسپورٹ اور شناختی کارڈز بنوا رکھے تھے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے طالبان کے سربراہ کےدورہ ایران کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے تاہم تہران کی جانب سے پاکستان کی طرف سے مقتول کے پاسپورٹ اور اس پر ایک جعلی نام کی موجودگی کے بارے میں آنے والی اطلاعات کی تردید نہیں کی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی طالبان لیڈر کو افغانستان سے آتے دیکھا گیا ہے بلکہ نظریاتی اختلافات کےباوجود ایران اور طالبان کے درمیان کسی نہ کسی شکل میں تعلقات اور باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

طالبان وفد کی ایران میں موجودگی

ایران اور افغان تحریک طالبان کے درمیان باہمی تعاون اور رابطوں کا سلسلہ ماضی میں مختلف چیلنجز سے جاری رہا ہے۔ کہیں یہ تعلقات شکوک وشبہات میں الجھے اور کہیں واضح اور نمایاں دکھائی دیتے رہے ہیں۔ مئی 2015ء کو ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایک خبر میں دعویٰ کیا کہ طالبان کے سیاسی دفتر کے انچارج طیب آغا کی قیادت میں ایک وفد تہران کے دورے پر آیا ہے۔ اس وفد نے علاقائی مسائل بالخصوص افغان مہاجرین کے مسائل پر ایرانی حکومت سے تبادلہ خیال کیا۔

’بی بی سی‘ نیوز ویب سائیٹ کے مطابق ملا عمر کی وفات کے بعد ان کے جانشین بنائے جانے والے ملا اختر منصور تنظیم کے وہ واحد رہ نما ہیں جنہوں ںے تین روز ایران میں گذارے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور پاسداران انقلاب کی قیادت کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔

طالبان کے اس وفد سے قبل سنہ 2014ء میں طالبان کے ایک دوسرے وفد کی خفیہ طور پر تہران آمد کی اطلاعات آئی تھیں۔ سنہ 2012ء کو طالبان کے ایک وفد نے ایران میں صحوۃ الاسلامیہ کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

اسلحہ اور عسکری تربیت

مئی سنہ 2010ء کو افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسٹنلی مک کریسٹل نے نے الزام عاید کیا کہ ایران طالبان کو اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جنگجوؤں کی عسکری تربیت بھی کررہا ہے۔

اسی سال مارچ میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ جنوبی قندھار میں طالبان کو ایران کی جانب سے بے پناہ اسلحہ اور گولہ بارود پہنچ رہا ہے۔

رواں سال فروری میں افغان فورسز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صوبہ بامیان میں طالبان کے ایک کمپاؤنڈ سے ایرانی ساختہ بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ کی بھاری مقدار قبضے میں لی ہے۔

بی بی سی نے بامیان کے گورنر محمد طاھر ظہیر کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں ںے بتایا کہ اگرچہ قبضے میں لی گئی تمام بارودی سنگیں تلف کردی گئی ہیں مگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اسلحہ ایران کی جانب سے طالبان کو فراہم کیا گیا تھا۔

طالبان جنگجوؤں کے بیانات

ایران کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ تعاون کی خبروں کے جلو میں افغان طالبان کے سرکردہ کمانڈروں کی جانب سے بھی تہران کے ساتھ روابط کے دعوے کیے جاتے رہےہیں۔

برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان اور ایران کے درمیان عسکری تعاون کا سلسلہ کئی سال پرمحیط ہے۔ اس تعاون میں طالبان جنگجوؤں کو ایرانی فوجیوں کی نگرانی میں دی جانے والی عسکری تربیت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افغانستان میں نیٹو فوجیوں پر حملوں کے طریقہ کار، بندوقوں اور کلاشنکوفوں کا استعمال، دیسی ساختہ بموں کے استعمال کے طریقہ کارے کے بارے میں ایران طالبان کی ٹریننگ کرتا رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی عسکری حکام نے طالبان کو تربیت دی کہ وہ چیک پوسٹوں پر کیسے حملے کریں، پہاڑی علاقوں میں موجود نیٹو اور غیرملکی فوجیوں کو کیسے نشانہ بنائیں نیز صحرائی اور میدانی علاقوں میں کلاشنکوف اور دوسرے ہتھیاروں کا استعمال کیسے کریں۔ برطانوی اخبار کے مطابق طالبان کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا کہ اگرچہ ہماری تاریخ اور مذہب ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر ہمارا ہدف ایک ہے۔ ہم دونوں [ایران، طالبان] امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔

سنڈے ٹائمز سے طالبان کے تین اہم جنگجوؤں نے تفصیلی بات چیت کی اور کہا کہ انہیں ایران میں ایک کیمپ میں عسکری تربیت دی گئی۔ طالبان کمانڈر نے بتایا کہ وہ 20 دوسرے جنگجوؤں کے ہمراہ جنوبی پاکستان اور وہاں سے ایران کی مغربی سرحد عبور کرکے ایران کے شہر زاھدان میں داخل ہوئے۔

دوسرے کمانڈر نے بتایا کہ وہ ایک گروپ کے ساتھ ایران کے شہر نمروز میں تین روز تک ٹھہرے۔ یہ شہر صوبہ سیستان[بلوچستان] کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس کی وجہ شہرت قبائلی لڑائیاں اور منشیات کی اسمگلنگ بتائی جاتی ہے۔ افغان طالبان نے انسانی اسمگلروں کی مدد حاصل کی اور ایران پہنچنے میں مدد دینے کے لیے اسمگلروں کو 500 ڈالر ادا کیے تھے۔ انسانی اسمگلر تمام جنگجوؤں کو پک اپ گاڑیوں کی مدد سے زاہدان لے کرگئے اور وہاں سے انہیں ایک فوجی کیمپ میں لے جایا گیا۔

غزنی سے واپس آنے والے طالبان کمانڈر نے بتایا کہ آغاز سفر میں ہمیں سفری اخراجات خود برداشت کرنا پڑتے ہیں مگر ایران پہنچ جانے کے بعد ایرانی حکام ہمیں اس کی ادائیگی کردیتے ہیں۔

تعلقات میں سرد مہری

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے عرصے میں ایران اور طالبان کے درمیان تعلقات سرد مہری اور تناؤ کا شکار رہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ سب سے اہم وجہ ایران کا تحریک طالبان کے حوالے سے معاندانہ رویہ بتایا جاتا رہاہے۔ طالبان ایران پر اپنے مخالفین کی مدد کا الزام عاید کرتے رہے۔ اس کےعلاوہ دونوں کے درمیان مسلکی اور مذہبی اختلافات بھی تناؤ کا موجب رہے ہیں۔

سنہ 1997ء اور سنہ 1998ء میں طالبان اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے نطقہ عروج پر رہی۔ سنہ 1997ء کو طالبان میں کابل میں موجود ایرانی سفیر کو وہاں سے نکال باہر کیا اور ایران پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور طالبان مخالف شمالی اتحاد کی مدد جیسے الزامات عاید کئے گئے۔ دوطرفہ کشیدگی میں اس وقت اور بھی اضافہ ہوگیا جب مزار شریف میں ایرانی قونصل خانے پر طالبان کے حملے میں دو ایرانی سفارت کار ہلاک ہوگیے۔

کشیدگی اور آگے بڑھتی تو افغانستان اور ایران کی سرحد پر جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا۔ ایران نے طالبان سے لڑنے کے لیے پاسداران انقلاب پر مشتمل 70 ہزار فوجیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا جب کہ طالبان نے اس کا مقابلہ 25ہزار جنگجوؤں اور اسکڈ میزائلوں سے کیا۔

بعد ازاں ایران نے یرغمال بنائے گئے دس ایرانی رہا کیے تو دو طرفہ کشیدگی میں کمی آنا شروع ہوگئی۔ اس دوران طالبان اور ہزارہ قبائل کے درمیان بھی مفاہمت ہوئی جس کے نتیجے میں تہران کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں کمی آگئی تھی۔

دشمنی کے بعد دوستی

تہران اور طالبان کے درمیان دشمنی اور مخالفت کا سلسلہ سنہ 2001ء میں اس وقت تک جاری رہا جب تک کابل پر طالبان کی حکومت قائم رہی۔ جب امریکا کی قیادت میں عالمی فوج نے افغانستان پر حملہ کیا تو ایران اور طالبان کے درمیان تعلقات اور تعاون کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔ ماضی کی دشمنی ختم اور دو طرفہ دوستی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا جو اب بھی جاری ہے۔

طالبان رہ نماؤں اور وفود کی ایران آمد ورفت کا سلسلہ امریکی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا بھی مرکز بنا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی، افغان اور یورپی حکام کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ایران طالبان تحریک کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نہ صرف طالبان جنگجوؤں کو عسکری تربیت اور اسلحہ مہیا کرتا ہے بلکہ جنگجوؤں کی مالی مدد بھی کررہا ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران طالبان کی مدد اس لیے نہیں کررہا ہے کہ وہ انہیں دوبارہ افغانستان میں اقتدار تک پہنچانے کا خواہاں ہے بلکہ ایران خطے میں امریکی اثرونفوذ کم کرنے کے لیے ایسا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان کی مدد اس لیے بھی کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں داعش کو اپنے پنجے پھیلانے سے روکا جاسکے۔