یومیہ 40 سیگریٹ پھونکنے والے آسٹریا کے نومنتخب صدر

ماحولیاتی تحفظ کی پرچارک پارٹی کے لیڈر کی اندھا دھند تمبا کو نوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریا میں حال ہی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتیجے میں فاتح قرار پانے والے 72 سالہ روسی نژاد الیگزینڈر فان ڈیر پیلین کی کامیابی کا جشن تو منایا جا رہا ہے مگر مسٹر پیلین ملک میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم ’’گرین پارٹی‘‘ کے سربراہ ہونے کے باوجود یومیہ چالیس سیگریٹ پھونکتے ہوئے شاید سب سے بڑھ کر ماحولیاتی آلودگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے آسٹریا کی ایک مقامی نیوزویب سائیٹ oe24 کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ الیگزینڈر فان پیلین سنہ 1944ء کو روس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ہالینڈ جبکہ والدہ اسٹونیا سے تعلق رکھتی تھیں مگر سوویت یونین میں کیمونسٹ انقلاب کے بعد وہ فرار ہو کر آسٹریا آگئے تھے۔ ان کے ہاں پیدا ہونے والے ایک بیٹے الیگزینڈر فان پیلین نے حال ہی میں آسٹریا میں صدارتی انتخابات میں حصہ لیا۔ ان کی ایک سابق بیوی دیر پیلین نے بتایا کہ مسٹر پیلین روزانہ دو ڈبیاں سیگریٹ پی جاتے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق پیلین نے ایک سال قبل دوریس نامی ایک خاتون کے ساتھ دوسری شادی کی تھی۔

آسٹریا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں الیکذنڈر فان پیلین کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔ ان کے سب سے بڑے حریف ایک بنیاد پرست اور سابق انجینیر نور برٹ ہوفر تھے جنہوں نےسوشلسٹ ڈیموکریٹک لیڈرھائینز فیچر کے جانشین کے لیے ھوفر کے بجائے فان پیلین کو منتخب کیا۔

شکست خوردہ امیدوار نور برٹ ھوفر نے شکست کے جذبات سے بھرپور دکھی لہجے میں کہا کہ ’میں صدر بن کر اپنے ملک کے ایک محافظ کے طور پرخدمت کرنا چاہتا تھا‘‘۔ محافظ سے ان کا اشارہ شامی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکنے کی جانب تھا۔ انہوں نے انتخابات میں جیتنے والے حریف کی کامیابی پر مبارک باد کا ایک لفظ تک نہیں کہا ہے۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ فان پیلین نے سنہ 2012ء میں تمباکو نوشی ترک کردی تھی مگر وہ اپنے عزم پر چار ماہ سے زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکے اور نہ صرف سیگریٹ نوشی دوبارہ شروع کردی بلکہ پہلے سے زیادہ تعداد میں سیگریٹ پینے لگے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں