.

"علی صالح، عبدالملک الحوثی کو امن عمل سے باہر کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں امن مذاکرات میں شریک یمنی حکومت کے وفد نے ملک میں جاری تنازعے کے کسی سیاسی تصفیے میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بالکل بے دخل کرنے اور ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثالثی امن مذاکرات میں شریک صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے وفد نے حوثی ملیشیا کے لیڈر عبدالملک الحوثی کو بھی مجوزہ سیاسی سمجھوتے سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے

وفد نے ملیشیاؤں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے زیر حراست وزیر دفاع میجر جنرل محمود الصبیحی اور دوسرے سیاسی قیدیوں کو رہا کردیں۔حوثی ملیشیا نے گذشتہ سال مورچ میں لہج میں باغیوں کے خلاف سرکاری فوج کی کارروائی کے دوران وزیردفاع کو گرفتار کر لیا تھا۔ان کے علاوہ ایک سو انیسویں آرمرڈ بریگیڈ کے کمانڈر فیصل رجب کو بھی پکڑ لیا گیا تھا۔

انھوں نے حوثی ملیشیا کے زیر حراست صحافیوں کی بھی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان صحافیوں نے حوثیوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف جیلوں میں بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں یمنی حکومت کے وفد اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ سرکاری وفد نے گذشتہ ہفتے حوثی باغیوں کی کہہ مکرنیوں کے خلاف مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔تاہم وہ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد اور امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کی اپیل پر دوبارہ مذاکرات میں شریک ہوگیا تھا۔

اس کے بعد سے طرفین کے درمیان بات چیت میں اہم متنازعہ امور پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا ہے۔عالمی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دونوں وفود نے ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کی ہے اور اس کے بعد وہ ان سے الگ الگ بھی ملے ہیں۔

انھوں نے دونوں فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ یمنی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے تنازعے کا پائیدار حل تلاش کرنے کی غرض سے ہر ممکن کوششیں بروئے کار لائیں لیکن اگر کوئی تاخیر ہوتی ہے ،کوئی وعدوں سے پھرتا ہے یا بائیکاٹ کردیتا ہے تو اس سے ہم ایک مرتبہ پھر پیچھے چلے جائیں گے اور یمنی عوام تنازعے کے جس حل کے منتظر ہیں،وہ سستی روی کی نذر ہوجائے گا''۔