.

الرقہ میں داعش کے خلاف مل کر لڑنے کو تیار ہیں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں دولت اسلامی داعش کے گڑھ میں کارروائی کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم عالمی اتحاد، عرب ممالک اور کرد فورسز کے ساتھ مل کر لڑنے کو تیار ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے ازبکستان میں منعقدہ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "میں پورے یقین اور وثوق سے کہتا ہوں کہ ہم شام میں داعش کو اس کے گھر میں ختم کرنے کے لیے تمام قوتوں سے مل کر لڑنے کو تیار رہیں۔"

کل منگل کو ایک امریکی عہدیدار نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ عرب اتحاد اور کرد فورس نے شمالی الرقہ میں داعش کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد داعش کو اپنے سب سے مضبوط گڑھ میں ختم کرنے کا آغاز ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے بغداد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ "ڈیموکریٹک سیرین فورسز نے الرقہ کے شمالی علاقوں میں داعش کی صفائی کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد الرقہ میں داعش کو شکست سے دوچار کرنا ہے۔" ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد الرقہ میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں تیزی لائے گی تاکہ زمینی فورسز کی پیش قدمی میں مدد کی جاسکے۔

خیال رہے کہ شام کی ڈیموکریٹک فورسز میں شام کے عرب اور کرد گروپ شامل ہیں انہوں نے امریکا اور دوسرے عرب ملکوں کی معاونت سے شمالی الرقہ میں منگل سے اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔