.

فلوجہ کے مکینوں کی زندگیاں داعش کے رحم وکرم پر

فرار ہونے والے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے داعش کا ڈیتھ سیل قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر فلوجہ میں عراقی فورسز اور اس کی حامی ملیشیا کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’داعش‘ کے خلاف شروع کیے گئے تازہ آپریشن کے بعد اہل فلوجہ کی زندگیاں سنگین خطرات سے دوچار ہوگئی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق داعش نے عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے انہیں محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی سے روک دیا ہے اور فرار کی کوشش کرنے والوں کو موت کےگھاٹ اتارنے کے لیے ڈیتھ سیل قائم کرتے ہوئے جنگجو سڑکوں پر پھیلا دیے ہیں۔

اخبار "انڈیپنڈنٹ" میں شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش نے فلوجہ شہر کی سڑکوں اور اہم گذرگاہوں پر اپنے جنگجو پھیلا دیے ہیں جو جنگ کے باعث فرار ہونے والوں کو پکڑ کر قتل کررہے ہیں۔ اسی طرح داعش نے گھروں سے تنظیم کا پرچم اتارنے والوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلوجہ شہر کے اندر مزاحمتی کارروائیوں کے نتیجے میں کم سے کم تین داعشی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ داعشی جنگجوؤں کی ہلاکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں کے اندر بھی مزاحمت کار موجود ہیں۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں عراقی فوج نے اپنی حامی شیعہ ملیشیا کی مدد سے فلوجہ شہر کے نزدیک واقع قصبے الکرملہ اور اس کے آس پاس کے مقامات کو داعش سے چھڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں جاری جنگی توقع سے زیادہ تیزی سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوؤں کے حوصلے پست ہیں اور وہ تیزی کے ساتھ پسپا ہو رہے ہیں۔

مقامی سرکاری ذرائع کے مطابق عراقی فوج اس وقت شہر کے جنوب کی سمت میں فلوجہ ڈیم سے متصل النعیمیہ کے علاقے پر قبضے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج نے شمال میں الصقلاویہ میں بھی اہم پیش رفت کی ہے۔ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ توپ خانے اور ٹینکوں سے بھی داعش کے ٹھکانوں پر بھرپور حملے کیے جا رہے ہیں۔

درایں اثناء عالمی ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ بغداد کے مغرب میں واقع فلوجہ شہر میں تازہ لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں عام شہری محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ شہر میں خوراک، پانی اورادویہ کی سپلائی معطل ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی مشکلات میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ اقوم متحدہ نے بھی فلوجہ کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے وہ عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں مقامی آبادی کو جہاں داعش کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے وہیں عراقی فوج کے ساتھ معاونت کرنے والی شیعہ ملیشیا حشد الشعبی کی طرف سے بھی جنگی جرائم کے ارتکاب کا خطرہ ہے کیونکہ شیعہ ملیشیا ماضی میں بھی عراق کے مخلتف شہروں میں کارروائیوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی مرتکب ہوتی رہی ہے۔