.

ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان نے ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا امیر منتخب کر لیا ہے۔طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کو ایک بیان میں ان کے انتخاب اور سابق امیر ملّا اختر منصور کی امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ہیبت اللہ اخونزادہ طالبان کی عدلیہ کے سابق سربراہ رہے ہیں اور وہ ملّااختر منصور کے نائب تھے۔بزرگ افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کے بیٹے اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور طالبان تحریک کے بانی امیر ملّامحمد عمر مرحوم کے بیٹے ملّا محمد یعقوب کو ان کا نائب بنایا گیا ہے۔

ملّا اختر منصور کو گذشتہ سال ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد افغان طالبان نے اپنا امیر منتخب کیا تھا۔تاہم بعض طالبان کمانڈروں اور ان کے پیروکاروں نے انھیں اپنا امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے افغانستان کے بعض علاقوں میں ان کی قیادت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے۔اب بھی طالبان کی صفوں میں نئی قیادت کے انتخاب کے حوالے سے اختلافات کی خبریں منظرعام پر آئی تھیں لیکن اختلافات کی خلیج گہری ہونے سے قبل ہی ہیبت اللہ اخونزادہ کو طالبان کا نیا امیر منتخب کر لیا گیا ہے۔

طالبان اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر امریکی فوج کے حملے کے بعد سے مزاحمتی جنگ لڑرہے ہیں۔وہ صدر اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت کی عمل داری تسلیم نہیں کرتے ہیں اوراس کو طالبان کی جانب سے مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔طالبان کے جنگجو افغان سکیورٹی فورسز پر آئے دن حملے کرتے رہتے ہیں اور عام افغان بھی ان حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔گذشتہ سال طالبان کے حملوں ،سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں قریباً گیارہ ہزار شہری اور ساڑھے پانچ ہزار فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔