.

''یمن امن مذاکرات میں متحارب فریق سمجھوتے کے قریب''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے کہا ہے کہ یمنی متحارب فریق کویت میں جاری امن مذاکرات میں سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم ایک عمومی مفاہمت کی جانب پیش رفت کررہے ہیں اور اس میں متحارب فریقوں کی توقعات اور وژن شامل ہوگا''۔ان کا کہنا تھا کہ یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات زیادہ حساس نوعیت اختیار کر گئے ہیں اور اس سے ہم ایک جامع سمجھوتے کے نزدیک ہیں۔

اسماعیل ولد شیخ احمد کویت سے نیویارک چلے گئے ہیں جہاں وہ آج بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بند کمرے کے اجلاس میں یمن امن مذاکرات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

یمنی حکومت اور حوثی ملیشیا کے وفد کے درمیان سوموار کو ایک ہفتے کے تعطل کے بعد براہ راست مذاکرات بحال ہوئے تھے۔عالمی ایلچی کا کہنا تھا کہ منگل کو مذاکرات میں حوثیوں کے انخلاء اور فوجیوں کی نقل وحرکت سمیت عسکری اور سلامتی سے متعلق مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اب ہم مختلف رکاوٹوں پر قابو پانے اور سمجھوتے پر عمل درآمد کے میکانزم کی تفصیل طے کرنے کے لیے تبادلہ خیال کررہے ہیں''۔

یمنی وفد کے سربراہ وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ملک میں قیام امن کے لیے رعایتیں دینے کو تیار ہے۔مذاکرات سے جان کاری رکھنے والے ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''انھوں نے اہم پیش رفت کی ہے۔اب ہم اس مرحلے میں پہنچ گئے ہیں جہاں متحارب فریقوں کو مشکل انتخاب اور فیصلے کرنا ہوں گے''۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ''فریقین میں جلد ڈیل طے پاسکتی ہے کیونکہ پہلے ہم نے گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران امن کے لیے اس طرح کا جوش وخروش نہیں دیکھا ہے۔ایک نقشہ راہ وضع کر لیا گیا ہے اور یہ کام بھی کرے گا''۔

یمنی حکومت کا وفد کویت میں 21 اپریل سے جاری مذاکرات میں گذشتہ سال اپریل میں سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔اس میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے کہا گیا ہے کہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردے۔

حوثی باغی اس کے جواب میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن سرکاری وفد کا یہ موقف رہا ہے کہ منصور ہادی ملک کے منتخب اور جائز صدر ہیں اور ان کی صدارت پر کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔

فریقین کے درمیان اس اختلاف کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی نے ''نیشنل سالویشن کی حکومت'' کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔اس حکومت میں تمام یمنی فریق شامل ہوں گے لیکن یہ موجودہ حکومت کی جگہ اس وقت ہی لے گی جب دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں پر سے ''غیر ریاستی عناصر'' یعنی حوثی باغیوں کا کنٹرول ختم ہوجائے گا۔