.

ای امیل: ہلیری کلنٹن سرکاری قواعد کی خلاف ورزی کی مرتکب

محکمہ خارجہ کی رپورٹ سے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کو ایک اور دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی شہرت کو محکمہ خارجہ کی تحقیقات کے نتیجے میں ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے بدھ کو جاری کردہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہلیری کلنٹن نے بطور امریکی وزیر خارجہ کسی منظوری کے بغیر اپنا ذاتی ای میل سرور سرکاری مراسلت کے لیے استعمال کیا تھا اور اس طرح وہ سرکاری قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی تھیں۔

ہلیری کلنٹن سرکاری خط وکتابت کے لیے اپنا شخصی اکاؤنٹ اور گھر میں لگے سرور کو استعمال کرنے کا دفاع کرتی رہی ہیں۔ وہ صدر براک اوباما کے پہلے دور صدارت میں سیکریٹری آف اسٹیٹ (وزیرخارجہ) کی حیثیت سے ہرقسم کی برقی مراسلت کے لیے اپنا ذاتی ای میل ایڈریس استعمال کرتی رہی تھیں۔وہ اس طرح ممکنہ طور پر ''وفاقی ریکارڈز قوانین'' کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ان کی اس برقی مراسلت کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ذاتی ای میلز کم محفوظ ہوتی ہیں اور انھیں ہیک کیا جاسکتا ہے۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں محکمہ خارجہ میں ہلیری کلنٹن سے قبل بھی وزرائے خارجہ کا مراسلت کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے حوالے سے مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے اجراء سے ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کے اپنی ای میلز کے دفاع کے لیے اختیار کردہ موقف بھی مجروح ہوا ہے اور وہ ایک طرح سے غلط ثابت ہوا ہے۔

واضح رہے کہ رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں ووٹروں کی اکثریت نے ہلیری کلنٹن کو بد دیانت قرار دیا تھا۔رپورٹ کا حاصل بحث یہ ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن محکمہ خارجہ کے انفارمیشن سکیورٹی کے ذمے دار حکام سے رجوع کرتیں تو انھیں کبھی بھی اپنے گھر کے سرور پر ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جاتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عملے نے جب اس امر کا پتا چلنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تو اس کو خاموش رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔اس کے علاوہ سنہ 2011ء میں ان کے ای میل کو ہیک کرنے کی مختلف مشتبہ کوششیں کی گئی تھیں لیکن ان کی محکمہ کے انفارمیشن سکیورٹی حکام کو اطلاع نہیں دی گئی تھی اور یہ محکمہ کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی تھی۔

اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیے ہیں اور انھیں اناہیم کیلی فورنیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بددیانت قرار دے ڈالا ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ کے مندرجات ان کے لیے بہتر نہیں ہیں۔

لیکن کلنٹن کی صدارتی مہم نے اس سے اتفاق نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ رپورٹ ری پبلکن پارٹی کی تنقید کا جواب ہے اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔انسپکٹر جنرل کے دفترنے پانچ وزرائے خارجہ کے ادوار کے ای میل ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے۔ان میں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی دونوں کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔

موجودہ وزیر خارجہ جان کیری ،میڈلین البرائٹ ،کولن پاول اور کنڈولیزا رائس نے انسپکٹر جنرل کے تفتیش کاروں کے سوالوں کا جواب دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن ہلیری کلنٹن واحد سابق وزیر خارجہ تھیں جنھوں نے تفتیش کاروں کو انٹرویو دینے سے انکار کردیا تھا۔

رپورٹ میں ہلیری کلنٹن کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا گیا ہے کہ انھیں ذاتی سرور استعمال کرنے کی اجازت حاصل تھی اور انھیں کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی لیکن انسپکٹر جنرل کو ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتا چل سکے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے نیویارک میں واقع اپنے گھر کے سرور کو اپنے ذاتی ای امیل کے لیے استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

ہلیری کلنٹن نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ کی حیثیت سے چار سالہ دور میں وفاقی حکومت سے کوئی ای میل ایڈریس نہیں لیا تھا۔فیڈرل ریکارڈ ایکٹ کے تحت ان کا سرکاری ای میل ایڈریس ہونا ضروری تھا لیکن مذکورہ رپورٹ کے مطابق ان کے معاونین نے محکمہ خارجہ کے سرور پر ان کی ذاتی ای میلز کو بھی محفوظ کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا تھا اور یہ ممکنہ طور پر وفاقی قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے کیونکہ سرکاری مراسلت کا ریکارڈ محکمے کے سرور پر موجود ہونا ضروری ہے۔

امریکی قانون کے تحت وفاقی وزراء کی ای میلز گورنمنٹ سرورز پر موجود ہونا ضروری ہے تاکہ ان کو تلاش کیا جاسکے۔سرکاری کے مقابلے میں ذای ای میلز محفوظ نہیں ہوتی ہیں اور انھیں وفاقی حکام شاذ ہی اور ہنگامی صورت حال میں استعمال کرتے ہیں۔ہلیری کلنٹن کی جانب سے محکمہ خارجہ کے تمام کام کے لیے ذاتی ای میل کا استعمال صرف انہی کے لیے خاص تھا۔اس سے پہلے کسی امریکی وزیر خارجہ نے ایسا نہیں کیا تھا۔

ہلیری کلنٹن امریکا میں نومبر 2016ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مدمقابل ہوں گی۔وہ 2008ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے لیے بھی امیدوار تھیں لیکن وہ براک اوباما کے مقابلے میں ڈیمو کریکٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں۔براک اوباما نے صدر منتخب ہونے کے بعد انھیں اپنی کابینہ میں محکمہ خارجہ کا قلم دان سونپا تھا۔