.

مصری طیارے کی آخری آڈیو ریکارڈنگز یونان سے قاہرہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان نے مصر کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی آخری آڈیو ریکارڈنگز قاہرہ میں تحقیقاتی ٹیم کو بھیج دی ہیں۔یونان نے اس کے علاوہ طیارے کی راڈار تصویر بھی بھیجی ہے۔

مصر کے فضائی حادثات سے متعلق امور کے سربراہ ایمن المقدم نے جمعرات کو بتایا ہے کہ فرانسیسی کمپنی السیمار کا مہیا کردہ ایک جہاز بحر متوسط میں مسافر پرواز ایم ایس 804 کے ملبے کی تلاش میں جلد شریک ہورہا ہے۔یہ جہاز سمندر کی تہ میں ملبے کو تلاش کرنے میں خصوصی مہارت رکھتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سمندر میں تباہ شدہ طیارے کے بلیک باکسز کی تلاش کے لیے ایک اور فرم کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں اور ایمرجنسی ٹرانسمیٹر کی بھی جائے حادثہ سے پانچ کلومیٹر کے علاقے میں تلاش جاری ہے۔

مصر کی قومی فضائی کمپنی نے بحر متوسط میں گر کر تباہ ہونے والے اپنے مسافر طیارے کے بلیک باکسز کی تلاش کے لیے بدھ کے روز دو غیرملکی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی اطلاع دی تھی۔مصر للطیران کے سربراہ صفوت مسلم نے بتایا کہ ایک فرانسیسی اور ایک اطالوی کمپنی مصری ٹیموں کے ساتھ مل کر سمندر کی تہ میں بلیک باکسز کو تلاش کریں گی۔

اس سے پہلے برطانیہ ،قبرص ،فرانس ،یونان اور امریکا کے بحری جہاز اور طیارے بھی بحر متوسط میں مصری ٹیموں کے ساتھ مل کر تباہ شدہ طیارے کا ملبہ اور بلیک باکسز تلاش کررہے ہیں۔اب تک انھیں طیارے کے بعض حصے ،کٹے پھٹے انسانی اعضاء اور مسافروں کا سامان ملا ہے۔مصر للطیران کا یہ مسافر طیارہ گذشتہ جمعرات کی صبح پیرس سے قاہرہ آتے ہوئے بحر متوسط میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس میں سوار تمام 56 مسافر اور عملے کے 10 ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔