.

امریکا : ایران سے بھاری پانی کی خریداری مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ارکان پارلیمنٹ نے ایران سے بھاری پانی کی خریداری کو مسترد کردیا۔ اس حوالے رائے شماری بدھ کی شام ہوئی۔ ادھر سینیٹ کے ارکان نے "ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون" میں ترمیم کے معاملے پر بحث کی۔ ترمیم کے مسودے کی منظوری کی صورت میں ایران کے میزائل پروگرام کے سبب تہران حکومت کے خلاف پابندیوں میں 2031ء تک توسیع کردی جائے گی۔

امریکی نیوز ایجنسی " اے پی" کے مطابق کانگریس میں 168 ارکان پارلیمنٹ نے تہران سے بھاری پانی کی خریداری کے حق میں جب کہ 251 ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

ریپبلکن رکن پارلیمنٹ رون ڈیسینٹس کی جانب سے پیش کی گئی درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا امریکی حکومت کو ایران سے بھاری پانی خریدنے سے روکا جائے۔ ایران نے گزشتہ برس " 5+1" گروپ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد اپنے بھاری پانی کے ذخیرے کو کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ واشنگٹن حکومت نے گزشتہ جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سے 32 میٹرک ٹن بھاری پانی خریدے گی۔

دوسری جانب ایک امریکی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سینیٹ میں ریپبلکن ارکان ایران پر پابندیوں کے قانون کو وسیع پیرائے کے بل سے مربوط کرنا چاہتے ہیں۔

اسی سیاق میں سینیٹر کیلی ایوٹے نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے سینیٹ کے دیگر 18 ریپبلکن ارکان کے ساتھ مل کر "قومی دفاع کے قانون" کے حوالے سے ایک ترمیم پیش کی ہے جس کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کو سپورٹ کرنے والی شخصیات پر عائد پابندیوں میں توسیع کرنا ہے۔

ریپبلکن ارکان کی جانب سے پیش کردہ ترامیم میں "ایران پر پابندیوں کے قانون" میں، جو رواں سال کے آخر میں اختتام پذیر ہورہا ہے سال 2031 تک توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں ریپبلکن سینیٹر کورے گارڈنر نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے برے برتاؤ کا جواب دینے کے لیے دستیاب آلات کے استعمال سے متعلق اپنا وعدہ پورا کریں۔