.

داعش میں شامل لڑکیوں کی والدہ دوسری بچیوں کے لیے فکرمند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے عرب ملک تیونس سے تعلق رکھنے والی دو کم عمر لڑکیوں کی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’داعش‘ میں شمولیت کے بعد ان کی والدہ کو اپنے دو دیگر بچیوں کو داعش سے چنگل سے بچانے کے لیے فکرمند ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الفۃ الحمرونی نامی ایک تیونسی خاتون کی چار بچیاں ہیں۔ ان میں سے دو بچیاں جن کی عمریں بیس سال سے کم ہیں، نے سنہ 2014ء میں داعشی خلیفہ ابو بکرالبغدادی کی اپیل پر اپنا گھر بار چھوڑا اور چپکے سے پڑوسی ملک لیبیا روانہ ہوگئیں جہاں انہوں نے داعشی جنگجوؤں سے شادیاں بھی کرلیں۔ الحمرونی کے پاس دو بچیاں باقی بچی ہیں جن کی عمریں 11 اور 13 سال ہیں مگر والدہ اس لیے پریشان ہے کہ وہ بھی اپنی بہنوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شدت پسندانہ نظریا ت نہ اختیار کریں۔ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو وہ اپنی دو بچیوں سے بھی محروم ہوجائے گی۔

الحمرونی داعش کے چنگل میں پھنسنے والی اپنی دونوں بیٹیوں رحمۃ اور غفران کی تصاویر اپنے بیڈ روم میں سنھبالے ہوئے ہے اور انہیں اٹھتے بیٹھتے یاد کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی دوسری بچیوں کے ذہن سے داعش اور دہشت گردوں کے حوالے سے نرمی کے جذبات ختم کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق الحمرونی نی داعش میں شامل ہونے والی بیٹیوں کے بارے میں کسی کو وہم وگمان بھی نہ تھا کہ وہ شدت پسندانہ راستہ اختیار کریں گی کیونکہ وہ داعش میں شمولیت کے لیے لیبیا روانہ ہونے سے قبل گٹا بجاتی تھیں اور حجاب کی مخالف تھیں۔

چپکے سے لیبیا فرار کے بعد 17 سالہ رحمۃ نے نور الدین شوشانی نامی ایک داعشی جنگجو سے شادی کی۔ شوشانی کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ سرت میں امریکا کےایک فضائی حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔ رحمۃ کی دوسری ہمشیرہ غفران نے بھی ایک داعشی جنگجو سے شادی کی تھی جس سے اس کا ایک بچہ بھی ہے، مگر وہ جنگجو بھی ایک فضائی حملے میں مارا جا چکا ہے۔ یہ دونوں بہنیں اس وقت طرابلس میں داعش مخالف ایک گروپ کی قید میں ہیں۔

داعش میں شامل ہونے والی لڑکیوں کی بہنوں کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ ان کی بہنیں کس طرح داعش کی چنگل میں پھنسی ہیں حالانکہ وہ بچوں کو تعلیم دینے کے منصوبوں پر غور کرتی اور اسی بارے میں ویڈٰیوز دیکھا کرتی تھیں۔ 11 سالہ آیت کا کہنا ہے کہ داعش میں شامل ہونے والی بہنیں کبھی کبھی ان سے لڑائی میں شامل ہونے کی بات کرتی تھیں لیکن ہم ان کی بات مذاق سمجھتے تھے۔

خیال رہے کہ سنہ 2014ء میں داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کی اپیل پر دوسرے ملکوں کے علاوہ تیونس سے 700 خواتین شام اور عراق میں داعش میں شمولیت کے روانہ ہوئی تھیں۔ یہ تیونسی وزارت خارجہ کے سرکاری اعداد وشمار ہیں جب کہ مبصرین تیونس کی داعش میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد 1000 سے زاید بیان کرتے ہیں۔ تیونس کے علاوہ داعش کی صفوں میں شامل ہونے والی لڑکیوں میں سوڈان، شام، مصر، مراکش اور یورپی ملکوں کی خواتین بھی شامل ہیں۔

داعش کی صفوں میں شمولیت کے بعد خواتین خودکش بمبار بننے کےعلاوہ دیگر جنگی امور میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں لیڈیز پولیس میں خدمات کے ساتھ یہ عورتیں دہشت گردوں کے لیے بچے جننے، داعش کے اسکولوں میں پڑھانے اور دیگر امور سرانجام دینے کی کوشش کرتی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش میں شامل ہونے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا سے وابستہ ہے جو نوجوانوں کو داعش کی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔