.

صدر اوباما کے ہیروشیما کے دورے سے نئی بحث چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیرنگیِ زمانہ دیکھیے۔امریکا کے ایک صدر نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرانے کا حکم دیا تھا۔اس واقعے کے ستر،اکہتر سال بعد ایک اور امریکی صدر (براک اوباما) ایٹم بم کی تباہی سے دوچار ہونے والے اس شہر میں پہنچے ہیں اور انھوں نے مرنے والے ہزاروں افراد کی امن یادگار پر پھول چڑھائے ہیں۔یہ کسی امریکی صدر کا ہیروشیما کا پہلا دورہ ہے۔

امریکا نے 6 اگست 1945کو ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا تھا۔اس کے نتیجے میں آن واحد میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ اس سال کے آخر تک مر گئے تھے۔امریکا اور جاپان کی حکومتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان ماضی کی تلخیوں کے خاتمے اور دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کوششوں میں مدد ملے گی۔

لیکن امریکی صدر کے دورے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ناقدین نے دونوں ملکوں پر منتخب یادداشتوں کو باور کرانے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ دونوں نے متضاد پالیسیاں اختیار کررکھی ہیں۔ ایک طرف وہ جوہری سد جارحیت پر انحصار کررہے ہیں اور دوسری جانب جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں۔

صدر اوباما کے مشیروں کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق ایجنڈے کو اجاگر کرنا ہے۔انھوں نے 2009ء میں نوبل امن انعام جیتا تھا اور انھیں یہ محض دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے موضوع پر تقریروں پر دیا گیا تھا۔

براک اوباما نے ہیروشیما کے دورے سے قبل کہا کہ وہ دوسری عالمی جنگ میں مرنے والے تمام افراد کو اعزاز بخشیں گے لیکن اس شہر پر جوہری بم گرانے پر معافی نہیں مانگیں گے۔امریکا نے 9 اگست 1945ء کو ناگاساکی شہر پر دوسرا ایٹم بم گرایا تھا اور اس کے چھے روز بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

امریکیوں کی اکثریت جاپانی شہریوں پر بم گرانے کی حامی رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور زندگیوں کو بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہوگیا تھا لیکن بعض تاریخ دانوں نے اس مؤقف کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں جبکہ بیشتر جاپانیوں کا یہ یقین رہا ہے کہ امریکا نے بلا جواز ایٹم بم گرائے تھے۔

صدر اوباما نے جاپانی اخبار آساہی میں جمعہ کو شائع شدہ ایک اںٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں سب سے پہلے دوسری عالمی جنگ میں اپنی جانیں گنوانے والے لاکھوں افراد کے اعزاز کے لیے آرہا ہوں۔ہیروشیما ہمیں اس جنگ کی تباہ کاریوں کی یاد دلاتا ہے۔اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اس جنگ کی کاز کیا تھی اور ا س میں کون سے ممالک شریک تھے،مگر اس کا نتیجہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں اور ان کے لیے سنگین مصائب کی صورت میں نکلا تھا''۔

انھوں نے سوالوں کے تحریری جواب میں کہا کہ''میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی ہتھیار چلانے کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ نہیں لوں گا بلکہ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ میں اور وزیراعظم شینزو آبی اکٹھے دنیا کو یہ دکھانے کے لیے آرہے ہیں کہ مصالحت ممکن ہے اور سابقہ بدترین حریف بھی مضبوط اتحادی بن سکتے ہیں''۔