.

مخلوط محفل کے انعقاد پرایرانی مردو خواتین کو کوڑوں کی سزا

عدالت کا 35 افراد کو فی کس 99 کوڑے مارنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک عدالت نے مخلوط محفل میں شرک کی پاداش میں 35 مردو خواتین کو فی 99 کوڑے مارنے کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شمال مغربی تہران کے قزوین شہر کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ عدالت نے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے 35 طلباء و طالبات کو مخلوط محفل منعقد کرنے اور غیراخلاقی اور خلاف ادب افعال کے ارتکاب پر فی کس 99 کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے۔

ایران کی جوڈیشل کونسل کی مقرب نیوز ایجنسی ’میزان‘‘ نے پراسیکیوٹر اسماعیل صادق نیارکی کا ایک بیان نقل کیا ہےجس میں ان کا کہنا ہے کہ کوڑوں کی سزاپانے والے افراد کو ایک مخلوط محفل سے پکڑا گیاہے۔ انہوں نے نہ صرف مخلوط مجلس سجا رکھی تھی بلکہ وہ رقص سرود کے ساتھ ساتھ شراب کے جام بھی چل رہے تھے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ قزوین کی ایک خصوصی عدالت نے حراست میں لیے تمام مردو خواتین کو فوری طور پر سزا دینے کا حکم دیا ہے تاکہ اسے دوسروں کے لیے عبرت بنایا جا سکے۔

پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت پر زور دیا تھا کہ وہ سزا کے نفاذ میں تاخیر سے کام نہ لے بلکہ جس دن ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا اسی دن انہیں سزا دینے کا حکم جاری کرے تاکہ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ اور فساد کی بیخ کنی کرنے میں مدد دی جاسکے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے گئے افراد کو نہ صرف کوڑوں کی سزا ہوگی بلکہ ان کے غیر اخلاقی افعال کے ارتکاب پر ان کے تعلیمی اور پیشہ وارانہ مستقبل پر بھی قدغن لگے گی۔

اسماعیل نیارکی کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کو خوشی منانے سے منع نہیں کرتی مگر خوشی منانے کی آڑ میں رقص سرود اور شراب وکباب کی محافل منعقد کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔