.

ٹرمپ کے بعض خیالات پاگل پن ہیں: آسٹریلوی اپوزیشن لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے حزب اختلاف کے لیڈر بل شارٹن نے ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض خیالات کو پاگل پن قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا میں 2 جولائی کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔انتخابی مہم کے دوران آسٹریلوی لیڈروں نے امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو بھی موضوع بنایا ہے اور وہ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند وتیز بیانات کے بارے میں لب کشائی کررہے ہیں۔

امریکا آسٹریلیا کا سب سے اہم تزویراتی اتحادی ہے اور آسٹریلوی حکومتیں واشنگٹن میں جس جماعت کی بھی انتظامیہ ہو،اس کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہیں۔بل شارٹن وسطی،بائیں بازو کی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ ہیں۔انھوں نے ڈارون ریڈیو اسٹیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض ایشوز کے بارے میں خیالات پاگل پن نظر آتےہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا آسٹریلیا کا ایک عظیم دوست ملک ہے۔وہ جس کسی کو بھی منتخب کریں ،یہ ان کا حق ہے لیکن اگر ٹرمپ کی طرح کے لوگ جیت جاتے ہیں تو یہ سیلبیرٹی سیاست کی جیت ہوگی''۔

بل شارٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو ''احتجاجی ووٹ'' کی مظہر قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ آسٹریلیا کو شفاف اور مساویانہ بنیاد پر پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

انھوں نے بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنے سخت حملے کا دفاع کیا ہے لیکن ٹیلی ویژن کیمروں کے سامنے ''پاگل پن'' کے الفاظ نہیں دُہرائے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان (ڈونلڈ ٹرمپ) کے جو بھی خیالات ہیں،وہ آسٹریلوی رائے عامہ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل نے حزب اختلاف کے لیڈر بل شارٹن کو ٹرمپ مخالف اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ انھیں امریکی رائے عامہ کو نالاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔تاہم انھوں نے خود ری پبلکن صدارتی امیدوار کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

ٹرن بل نے ،جو قدامت پسند اتحاد کے سربراہ ہیں،کہا کہ ''آپ تصور کرسکتے ہیں کہ آسٹریلویوں کے اس وقت کیا محسوسات ہوں گے جب کوئی امریکی صدر ہمارے وزارت عظمیٰ کے کسی امیدوار کو بھونکنے والا پاگل قرار دے گا''۔