.

گوانتا ناموبے :ابو زبیدہ 9/11 کیس میں بطور گواہ طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک عدالت نے کیوبا میں بدنام زمانہ حراستی مرکز میں قید القاعدہ کے ایک سابق رکن ابو زبیدہ کو پہلی مرتبہ نائن الیون حملوں سے متعلق ایک کیس میں بطور گواہ طلب کیا ہے۔

فلسطینی ابوزبیدہ کو امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے نے سنہ 2002ء میں گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے انھیں نہیں دیکھا گیا۔سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ان سے تفتیش کے دوران ہر طرح کے سفاکانہ حربے آزمائے تھے۔

سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ابو زبیدہ کو اس کی تمام باقی عمر اس بدنام زمانہ حراستی مرکز میں قید میں رکھنے کی کوشش کی تھی۔انھیں نائن الیون کے جنگی جرائم کے ایک مقدمے میں ماخوذ القاعدہ کے ایک اور رکن رمزی بن الشبیہ نے بطور گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رمزی نے گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں سی آئی اے کے ایجنٹوں پر انسانیت سوز سلوک کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں اور اپنے ان الزامات کی حمایت میں ابو زبیدہ کو بیان دینے کے لیے طلب کیا ہے۔

توقع ہے کہ وہ آیندہ ہفتے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور قیدی کے ساتھ مل کر مقدمے کی سماعت کے دوران گوانتاناموبے میں قائم عدالت کے روبرو بیان دیں گے۔اس صومالی قیدی کو بھی پہلے کبھی کسی پبلک فورم میں نہیں دیکھا گیا۔

رمزی الشبیہ کے وکیل جیمز ہیرنگٹن نے توقع ظاہر کی ہے کہ ابو زبیدہ ان کے موکل کے ان الزامات کی حمایت کریں گے کہ کیمپ سات کے نام سے جانے والے یونٹ میں محصور قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں شور کیا جاتا ہے اور سرسراہٹ پیدا کی جاتی ہے تاکہ انھیں جگائے رکھا جائے اور انھیں سکون سے بیٹھنے نہ دیا جائے۔

ان سے تفتیش کا یہ حربہ بالکل اسی انداز میں آزمایا جاتا ہے جس طرح سی آئی اے کی بیرون ملک جیلوں میں زیرحراست افراد سے سلوک کیا جاتا تھا۔امریکی فوج ان الزامات کا انکار کرتی چلی آرہی ہے۔

ہیرنگٹن کا کہنا تھا کہ ابو زبیدہ کو بھی اسی طرح کے شور اور سرسراہٹ کا سامنا کرنے کا تجربہ رہا ہے جس طرح کہ رمزی کو تجربہ ہورہا ہے۔انھیں جگائے رکھنے کے لیے سی آئی اے کے تفتیشی ایجنٹ اس طرح کا شور پیدا کرتے ہیں۔